(فتویٰ نمبر: ۷۲)
سوال:
ایک شخص شراب کی تجارت کیا کرتا تھا، جو شرعاً حرام ہے، لیکن اب وہ تائب ہوکر جائز تجارت کرنا چاہتا ہے،یعنی کسبِ حرام سے کسبِ حلال کی طرف آنا چاہتا ہے، توکیا مالِ حرام سے وہ جائز تجارت کرسکتا ہے یا نہیں؟اگر نہیں تو جائز تجارت کے لیے اس کے پاس رقم نہیں ہے،تو شرعاً وہ کیا طریقہ اختیار کرے؟
الجواب وباللہ التوفیق:
اسلام نے شراب کی خریدو فروخت کو حرام قراردیا، اس تجارت سے جتنے منافع ہوئے وہ سب بھی حرام ہیں، کیوں کہ اصل ما ل حرام ہو تو فروع (منافع) بھی حرام ہوتے ہیں؛ اس لیے کہ فقہ کا قاعدہ ہے: ”جو حکم اصل کا ہے وہی حکم فرع کا بھی ہوگا“۔(۱)
اورمالِ حرام کا حکم یہ ہے کہ اگر اس کے مالک معلوم ہوں تو وہ انہیں لوٹا یا جائے،اوراگر مالک معلوم نہ ہوں،یا معلوم ہوں مگر ان تک اس مال کا پہنچانا دشوار ہو،تو اصل مالک کی نیت سے اس کا صدقہ کردینا واجب ہے،خود کے لیے اس کا استعمال کرنا حلال نہیں ہے،یہی مذہب طرفین کا ہے،اور یہی قول مختار ومفتیٰ بہ ہے(۲)
جب شخصِ مذکور تائب ہوکر تجارت کرنا چاہتا ہے اور ا س کے پاس حلال رقم نہیں ہے، تو اس کی ایک صورت تو یہ ہے کہ وہ کسی سے بلا سودی قرض لے کر کاروبار کرے، لیکن اگر یہ ممکن نہ ہو تو شراب کی تجارت سے جتنا مال اس نے کمایا اس کا تخمینہ کرلیں، اور اس کی بابت یہ پختہ ارادہ کرلیں کہ میں انہیں آہستہ آہستہ ادا کردوں گا، پھر ماہوار ایک قسط اپنے اوپر ادائیگی کے لیے لازم کرلیں، اور پابندی کے ساتھ صدقہ کرتے رہیں، یہ صدقہ بنیتِ ثواب نہیں ہوگا ،بلکہ اپنے آپ کو پاک کرنے کی نیت سے ہوگا، امید ہے کہ اس طرح کرنے سے واجب التصدق رقم اصل کاروبار سے نکل جائے گی،اور پورا کاروبار جائز وحلال ہوگا۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” القرآن الکریم “ :﴿یا أیها الذین اٰمنوا لا تأکلوٓا أموالکم بینکم بالباطل إلا أن تکون تجارة عن تراضٍ منکم﴾ ۔ (سورة النساء : ۲۹)
ما في ” مشکوة المصابیح “ : ” إن اللّٰه ورسوله حرم بیع الخمر والمیتة إلخ “ ۔ متفق علیه ۔(ص/۲۴۱ ، باب الکسب وطلب الحلال ، ط : مکتبه بلال دیوبند)
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : وبطل بیع مال غیر متقوم أي غیر مباح الانتفاع به ۔ ابن کمال ۔ فلیحفظ ۔ کخمر وخنزیر ومیتة لم تمت حتف أنفها ، بل بالخنق ونحوه ، فإنها مال عند الذمي کخمر وخنزیر ، وهذا إن بیعت بالثمن أي بالدین کدراهم ودنانیر ومکیل وموزون بطل في الکل ۔ (در مختار) وفي الشامیة : قوله : (بطل في الکل) ؛ لأن المبیع هو الأصل ولیس محلا للتملیک فبطل فیه ، فکذا في الثمن ۔۔۔۔۔ قال في البحر : والحاصل أن بیع الخمر باطل مطلقًا
(۲۴۲/۷ ، کتاب البیوع ، باب البیع الفاسد ، ط : دار الکتب العلمیة بیروت)
ما في ” شرح السیر الکبیر “ : حکم العوض حکم المعوّض ۔(۱۸۱/۵ ، ط : دار الکتب العلمیة بیروت ، موسوعة قواعد الفقهیة : ۱۶۳/۴)
(۲) ما في ” رد المحتار “ : الحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده علیهم ، وإلا فإن علم عین الحرام لا یحل له ، ویتصدق به بنیة صاحبه ، وإن کان مالا مختلطا مجتمعا من الحرام ولا یعلم أربابه ولا شیئا منه بعینه حل له حکمًا ، والأحسن دیانة التنزه عنه ۔
(۳۰۱/۷ ، کتاب البیوع ، باب البیع الفاسد، مطلب فیمن ورث مالا حرامًا ، ط : بیروت)
ما في ” الهدایة “ : ولها أنه حصل بسبب خبیث ، وهو التصرف في ملک الغیر، وما هذا حاله فسبیله التصدق ، إذ الفرع یحصل علی وصف الأصل ، والملک المستند ناقص فلا ینعدم به الخبث ۔ (۳۷۵/۳ ، کتاب الغصب)
وما في ” الهدایة “ : ومن غصب ألفًا فاشتری بها جاریة فباعها بألفین ، ثم اشتری بألفین جاریة فباعها بثلاثة آلاف درهم ، فإنه یتصدق بجمیع الربح ، وهذا عندهما ، وأصله أن الغاصب أو المودع إذا تصرف في المغصوب أو الودیعة وربح لا یطیب له الربح عندهما خلافاً لأبي یوسف ۔۔۔۔۔۔۔۔ وقال مشائخنا : ولا یطیب له قبل أن یضمن ، وکذا بعد الضمان بکل حال ، وهو المختار لإطلاق الجواب في الجامعین والمبسوط ۔ (۳۷۵/۳ ، ۳۷۶) (فتاویٰ قاضی :ص/۱۱۳، ۱۱۵) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۹/۵/۵ھ
