حرمین میں جوتے چپلوں کی تبدیلی کا حکم شرعی

مسئلہ:

کسی کا مال بغیر اس کی اجازت کے لے لینا، اور استعمال کرنا شرعاً ناجائز اورحرام ہے، جبکہ حالتِ احرام میں تو خصوصاً فسق وفجور سے احتراز لازم اور ضروری ہے، اس لیے مسجد حرام سے چپل وغیرہ کوئی بھی سامان جو اپنی ملکیت میں نہ ہو، اس کو اٹھانے اور استعمال کرنے سے بچنا واجب ہے، جبکہ بعض مفتیانِ کرام نے حرم شریف میں جوتوں کی تبدیلی کی بابت یہ تفصیل لکھی ہے کہ جن چپلوں کے بارے میں یہ خیال ہو کہ مالک اس کو تلاش کرے گا، ان کو نہ پہنے، اور جن چپلوں کو اس خیال سے چھوڑ دیا گیا ہو کہ کوئی ان کو پہن لے، تو ان کو پہننا جائز ہے، مگر اس پر یہ اشکال وارد ہوتا ہے کہ یہ کیسے معلوم ہوگا کہ ان چپلوں کو اس خیال سے چھوڑ دیا گیا کہ کوئی ان کو پہن لے، کیوں کہ اس خیال کا تعلق صاحب خیال سے ہے، اور وہ معلوم نہیں ہے کہ اس سے دریافت کیا جاسکے، اور جب یہ معلوم نہیں ہوسکتا تو عدم جواز کا قول ہی بہتر اور مبنی بر احتیاط ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” القرآن الکریم “ : ﴿یآیها الذین آمنوا لا تأکلوا أموالکم بینکم بالباطل﴾۔(سورة النساء :۲۹)

ما فی ” التفسیر الکبیر للرازی “ : ذکروا فی تفسیر الباطل وجهین: الأول ؛ أنه إسم لکل ما لا یحل فی الشرع، کالربا والغصب والسرقة والخیانة وشهادة الزور وأخذ المال بالیمین الکاذبة وجحد الحق۔ (۵۶/۴، التفسیر المظهری:۲۹۸/۲)

ما فی ” القرآن الکریم “ : ﴿فمن فرض فیهن الحج فلا رفث ولا فسوق ولا جدال فی الحج﴾۔ (سورة البقرة:۱۹۷)

ما فی ” السنن لأبی داود “ : عن أبی هریرة رضی الله تعالی عنه قال : قال رسول الله ﷺ : ” کل المسلم علی المسلم حرام، ماله وعرضه ودمه“ ۔ الحدیث

(ص:۶۶۹، کتاب الأدب)

ما فی ” درر الحکام شرح مجلة الأحکام “ : لا یجوز لأحد أن یتصرف فی ملک الغیر بلا إذنه۔ (۹۶/۱، رقم المادة :۹۶)

اوپر تک سکرول کریں۔