حسنِ اخلاق سے بڑھ کر کوئی ہتھیار نہیں

(فتویٰ نمبر: ۷۱)

سوال:

ہمارے ایک ماموں ہیں ،ان سے مجھے بہت عقیدت ہے، انسیت کی بنا پر میں ان کے گھر پر بھی آتا جاتا ہوں، لیکن وہ ہمارے گھر والوں سے بغض رکھتے ہیں اور ہمارے گھر کے بعض کاموں میں رکاوٹ بنتے ہیں، ہمارے گاوٴں میں پانی کی بہت قلت ہے، گاوٴں کے ایک ہندو کے پاس پانی کابور ہے، سب لوگ اس بور سے پانی بھرتے ہیں اور ہماری بہنیں بھی اسی بور سے پانی بھرتی ہیں، لیکن بد قسمتی سے ہمارے ماموں کی اس ہندو سے دوستی ہے، جب ہماری بہنیں پانی بھرنے کے واسطے جاتی ہیں، تو ماموں ہماری بہنوں کو دیکھ کر اس ہندو کو کہتا ہے ان کو پانی مت بھرنے دو، تو وہ ہندو ہمارے ماموں کا یہ جملہ سن کر ہماری بہنوں کو وہاں سے نکال دیتا ہے، ہماری بہنیں گھر پر خالی ہاتھ آکر ہماری والدہ کو پورا ماجرہ سناتی ہیں، جس کی وجہ سے ہماری والدہ کو بہت ٹینشن اور غصہ آتا ہے، وہ ان سے جھگڑ تو نہیں سکتی، البتہ وہ ہمیں یوں کہتی ہیں دیکھو ان کے گھر پر کوئی بھی جانے کا نہیں اور نہ ان کے ساتھ رہنے کا، اور نہ ان سے کلام کرنے کا، کچھ کرنے کا نہیں ۔

لیکن اتنا سب کچھ ہونے کا باوجود مجھے ان کے لڑکوں کے ساتھ رہنا، ان کے گھر پر باربارآنا جانا اچھا معلوم ہوتا ہے، اور ماموں کی جانب سے بہت ساری غلطیاں ہوچکی ہیں، ان کو بیان کرنے کو جی نہیں چاہتا، لیکن ہماری والدہ کی طرف دیکھ کر مجھے بھی ٹینشن آتا ہے، اب میں چاہتا ہوں کہ وہ جیسا ہمارے گھر والوں کے ساتھ سلوک وبرتاوٴ کرتے ہیں، اسی طرح میں بھی ان کے ساتھ سلوک وبرتاوٴ کروں، چاہے کسی بھی طرح سے ہو، مگر میرا دل گوارہ نہیں کرتا کہ میں ان سے بدلہ لوں اور ان کو ستاوٴں، جس طرح وہ ہماری والدہ کو ستارہے ہیں، اگر ہم خاموش رہتے ہیں تو وہ اور زیادہ کرنے لگتے ہیں ،دریافت طلب امر یہ ہے کہ میں اپنے ماموں سے بدلہ لے سکتا ہوں یا نہیں؟ مجھے اینٹ کا جواب پتھر سے دینا چاہیے یا مسکرا کر؟

الجواب وباللہ التوفیق:

قرآن وحدیث میں صلہ رحمی یعنی رشتے داروں کے حقوق کی ادائیگی اور ان کے ساتھ اچھا معاملہ وحسنِ سلوک کی از حد تاکید اور بے حد فضائل بیان کیے گئے ہیں، اور اس پر بڑے اجرو ثواب کا وعدہ بھی کیا گیا ہے، اور قطع رحمی یعنی اہلِ قرابت کے حقوق ادا نہ کرنے اور ان کے ساتھ برا معاملہ و بد سلوکی کرنے پر سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں۔

رشتے داروں سے صلہ رحمی ایسا مبارک ومقدس عمل ہے کہ اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ رزق میں برکت، وسعت وفراخی اورعمر میں اضافہ و برکت عطا فرماتے ہیں، انسان کبھی اپنے مال سے اہلِ قرابت کی مدد کرتا ہے اورکبھی اپنا کچھ وقت ان کے کاموں میں لگاتا ہے، تو اس کے صلے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے رزق اور مال میں وسعت اور عمر میں برکت و اضافہ بالکل قرینِ قیاس ہے، یہ صلہ رحمی کا دنیوی فائدہ ہے، آخرت کا اجرو ثواب علیحدہ ہے۔

 اس کے برعکس جب کوئی شخص رشتے داروں سے قطع رحمی کرتا ہے او ر ان کے حقوق ادا نہیں کرتا، جس کی وجہ سے خاندانی جھگڑے اور اُلجھنیں کھڑی ہوجاتی ہیں، دل میں پریشانی اور اندرونی گھٹن پیدا ہوتی ہے، جس کا اثر کاروبارو صحت بلکہ ہر چیز پر پڑتا ہے، اور وہ ہر وقت پریشانی میں مبتلا رہتا ہے، زندگی بے لطف ہوجاتی ہے، نہ کاروبار میں برکت معلوم ہوتی ہے اور نہ دلی سکون رہتا ہے، قطع رحمی کا یہ دنیوی نقصان ہے ،اور آخرت میں جو عذاب وسزا ہے وہ الگ ہے ۔

ارشادِ خداوندی ہے:﴿وَاتَّقُوْا اللّٰہَ الَّذِيٓ تَسَآءَلُوْنَ بِه وَالاَرْحَام﴾۔”اور اللہ سے تقویٰ اختیار کروجس کے واسطے سے ایک دوسرے سے مانگتے ہو، اور قرابتوں کے باب میں بھی(تقویٰ اختیار کرو)۔“(سورة النساء : ۱)

مذکورہ آیت کی تفسیر کرتے ہوئے علامہ شبیر احمد صاحب عثمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: (اللہ سے ڈرنے کے بعد)… تم کو یہ حکم ہے کہ قرابت سے بھی ڈرو، یعنی اہلِ قرابت کے حقوق ادا کرتے رہو اور قطع رحمی اور بد سلوکی سے بچو ۔(تفسیرِ عثمانی: ۲۶۰/۱)

چنانچہ حدیثِ قدسی ہے: قَالَ اللّٰه تَبَارَکَ وَتَعَالٰی : ” أَنَا اللّٰه، وَأَناَ الرَّحْمٰنُ، خَلَقْتُ الرَّحِمَ، وَشَقَقْتُ لَها مِنْ إِسْمِيْ، فَمَنْ وَصَلَها وَصَلْتُه، وَمَنْ قَطَعَها بَتَتُّه“ ۔

”اللہ تعالیٰ فرما تے ہیں: میں اللہ ہوں، میں رحمن ہوں، میں نے رحم کو پیدا کیا، اور اسے اپنے اسم سے حصہ دیا، پس جو شخص اس کو جوڑے گا میں اس کو جوڑوں گا، اور جو شخص اس کو قطع کرے گا میں اس کو قطع کردوں گا۔“ (مشکوة المصابیح:ص/۴۲۰)

ہماری شریعت کی تعلیم صرف یہ نہیں کہ جو شخص تم سے رشتہ جوڑ کر رکھے، تم بھی اس سے رشتہ جوڑ کر رکھو، بلکہ شریعت کی تعلیم یہ ہے کہ جو رشتہ ناطہ توڑے، تم اس سے رشتہ جوڑو، جیسا کہ آپ علیہ الصلوٰة والسلام کا فرمان ہے:” صِلْ مَنْ قَطَعَکَ، وَأَحْسِنْ إِلٰی مَنْ أَسَاءَ إِلَیْکَ، وَقُلِ الْحَقَّ وَإِنْ کَانَ عَلٰی نَفْسِکَ “۔” جو تجھ سے قطع رحمی کرے تو اس کے ساتھ صلہ رحمی کر، اور جو تیرے ساتھ برائی کا معاملہ کرے تو اس کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آ، اور حق بات کہہ اگر چہ اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔“ (جمع الجوامع : ۶۸/۵) کہ جو شخص تم سے رشتہ توڑے اور رشتہ داری کے حقوق ادا نہ کرے، تم اس کے ساتھ بھی صلہ رحمی کرو، اور اس کے رشتے کے حقوق بھی ادا کرو، ورنہ قطعی رحمی کا وبال جس طرح اس پر پڑے گا تم پر بھی پڑے گا۔

علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :”صلہ رحمی واجب ہے ، امام قرطبی رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں صلہ رحمی کے واجب ہونے اور قطع رحمی کی حرمت پر امت کا اتفاق نقل فرمایا ہے، دلائلِ قطعیہ یعنی کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہ سے ثابت ہونے کی بنا پر۔“ کما في ” رد المحتار “ : قوله : (وصلة الرحم واجبة) نقل القرطبي في تفسیره اتفاق الأمة علی وجوب صلتها ، وحرمة قطعها ، للأدلة القطعیة من الکتاب والسنة “ ۔ (۹/۵۸۹ ، کتاب الحظر والإباحة) (فتاویٰ رحیمیہ:۲۲۰/۳) ؛ لہٰذا آپ ان سے بدلہ نہ لیتے ہوئے،ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرتے رہیں، حسنِ اخلاق سے بڑھ کر کوئی ہتھیار نہیں، جس سے آدمی اپنے مخالف کو اپنا موافق بناسکے۔ فقط

واللہ أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۹/۵/۲ھ

اوپر تک سکرول کریں۔