(فتویٰ نمبر: ۱۳۷)
سوال:
امریکہ میں غالباً ہر ملک کے لوگ بستے ہیں، ہر بڑے شہر میں دو یا اس سے زیادہ مسجدیں ہیں، جس مسجد کے منتظمین حنفی مسلک کے ہوتے ہیں وہا ں پر حنفی مذہب کے مطابق اوقاتِ نماز ہوتے ہیں، اور جس مسجد کے منتظمین شافعی مسلک کے ہوتے ہیں وہا ں پر اوقاتِ نماز شافعی مذہب کے مطابق ہوتے ہیں ، آئندہ سال رمضان مہینہ غالباً ۲۱/ جولائی سے ۲۲/ اگست تک ہوگا۔
سوال نامہ کے ساتھ میں صبحِ صادق ، مغرب اور عشا کا وقت بھیج رہا ہوں، آپ حضرات اس میں دیکھ سکتے ہیں کہ صبحِ صادق حنفی مذہب کے وقت کے مطابق شافعی مذہب سے پہلے ہوتی ہے، افطاری میں شافعی او ر حنفی وقت میں کوئی فرق نہیں اور عشا کاو قت حنفی مذہب کے مطابق شافعی مذہب کے وقت سے ۲۴/ منٹ تاخیرسے ہے، یہاں ہر مسجد میں رمضان کا ٹائم ٹیبل جس میں اوقاتِ سحر وافطار ودعائے سحر وافطار ہوتی ہے، تقسیم کیے جاتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ حنفی مذہب والے شافعی مذہب کے اوقات لکھ سکتے ہیں یا نہیں؟اب آئندہ سالوں میں رمضان کے روزے لمبے ہونے والے ہیں، لوگ یہ چاہتے ہیں کہ عشا کی نماز جلدی ہوجائے، کیوں کہ یہاں لوگ صبح جلدی بیدار ہوکر کام پر جاتے ہیں، تو کیا حنفی مسلک والے شافعی مذہب کے مطابق ۲۴/ منٹ تاخیر سے سحری اور عشا کی نماز ۲۴/ منٹ جلدی پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟ حقیقتاً دونوں امام بر حق ہیں، تو مجبوری میں اس طرح عمل کرسکتے ہیں یا نہیں؟
الجواب وباللہ التوفیق:
آپ کا یہ کہنا کہ دونوں امام برحق ہیں،بالکل برحق ہے،مگر جب کوئی شخص کسی امام کی تقلید کرے تو اب اس کے لیے یہ بات ہرگز جائز نہیں ہے کہ کسی مسئلے میں ایک امام کی تقلید کرے اور دوسرے مسئلے میں دوسرے امام کی تقلید کرے؛ اس لیے کہ اگر اس کی اجازت ہوجائے گی، توبجائے دینی مسائل پر عمل کرنے کے اپنی خواہشِ نفس پر عمل کرے گا، مثال کے طور پر اگر کسی مسئلے میں حضرت امام ابوحنیفہ کی رائے میں آ سانی معلوم ہو تو امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی تقلید کرے گا اور دوسرے مسئلے میں امام مالک یا امام شافعی رحمہما اللہ کی رائے میں آسانی معلوم ہو، تو اس میں امام مالک یا امام شافعی کی تقلید کرے گا، اصطلاحِ فقہ میں اسی کو تلفیق کہتے ہیں ۔” التلفیق ہو تتبع الرخص عن ہوی “۔یعنی خواہشاتِ نفس کی اتباع وپیروی میں رخصتوں کو تلاش کرنا، سہولت پسندی اختیارکرنا۔ (قواعد الفقہ : ص/۲۳۶)
علامہ شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ”بے شک حکم ملفق بالاجماع باطل ہے، اور عمل کرنے کے بعد تقلید سے رجوع کرنا بالاتفاق باطل اور ناجائز ہے “۔(۱)
دارالعلوم دیوبند کے ”ادارة المباحث الفقہیة“ کے زیر اہتمام چوتھا فقہی اجتماع منعقدہ: ۱۷/۱۸/ جمادی الاولیٰ ۱۴۱۵ھ میں ۵۸/ علمائے کرام ومفتیانِ عظام نے ایک متفقہ فیصلہ کیا تھا،جس کی شق نمبرایک یہ ہے کہ” عام حالات میں اپنے معین مذہب سے خروج کرنا(نکل جانا) اور دیگر فقہی مذاہب میں پائی جانے والی سہولتوں کو اختیار کرنا جائز نہیں ہے“ ۔ (بحوالہ ایضاح المسالک: ص/۱۷۹)
جب آپ حضرات امام ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ کی تقلید کرتے ہیں، تو کسی بھی عبادت یا معاملہ میں آپ کے لیے تلفیق اختیار کرنا بالاجماع باطل اور ناجائز ہے ، البتہ بدرجہٴ مجبوری خاص حالات میں مندرجہ ذیل ضوابط وشرائط کی رعایت کرتے ہوئے ان سہولتوں سے استفادہ کی مشروط اجازت دی جاسکتی ہے۔(۲)
(أ)خاص حالات میں جو قول اختیار کیا جائے وہ مذاہبِ اربعہ ہی کے دائرے میں ہو، کیوں کہ دیگر مذاہب باقاعدہ مدون نہیں ہیں۔
(ب)ضرورتِ داعیہ (یعنی اضطرار یا ناقابلِ برداشت تکلیف) پائی جائے،خواہ ضرورت عامہ ہو یا خاصہ ، عبادات میں ہو یا معاملات میں ۔
(ج)ضرورت وہی معتبر ہوگی جس کو اہلِ بصیرت واربابِ فتاویٰ اجتماعی فیصلہ کی بنیاد پر تسلیم کرلیں۔(۳)
(د)جس امام کے قول کو اختیار کیا جائے اس کی تمام شرائط ملحوظ رکھی جائے ۔
(ھ)دیگر مذاہب کا قول اقوالِ شاذّہ میں نہ ہو ۔
(و)تلفیقِ حرام (خارقِ اجماع) لازم نہ آئے ۔(۴)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : إن الحکم الملفق باطل بالإجماع ، وإن الرجوع عن التقلید بعد العمل باطل اتفاقًا ۔ (۵۱/۱ ، ط : کراتشي باکستان)
(۲) ما في” القرآن الکریم “ : ﴿فمن اضطر غیر باغ ولا عاد فلا إثم علیه﴾ ۔(سورة البقرة : ۱۷۳)
(۳) ما في” الموافقات للشاطبي “ : فأما الضرورة فمعناها أنها لا بد منها في قیام مصالح الدین والدنیا بحیث إذا فقدت لم تجر مصالح الدنیا علی استقامة ، بل علی فساد وتهارج وفوت حیاة ، وفي الأخری فوت النجاة والنعیم ، والرجوع بالخسران بالمبین ۔
(۳۲۴/۲، النوع الأول في بیان قصد الشارع في وضع الشریعة إلخ ، التکالیف الشرعیة ومقاصدها ، ط : دار المعرفة بیروت)
(۴) ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : وقد جاء في الدر المختار : إن الحکم الملفق باطل بالإجماع ، وإن الرجوع عن التقلید بعد العمل باطل اتفاقًا ، وهوالمختار في المذهب ؛ لأن التقلید مع کونه جائزًا ، فإن جوازه مشروطٌ بعدم التلفیق کما ذکر ابن عابدین في حاشیته ۔ وفي تتبع الرخص، وفي متتبعها في المذاهب خلاف بین الأصولیین والفقهاء ، والأصح کما في جمع الجوامع امتناع تتبعها ؛ لأن التتبع یحل رباط التکلیف ؛ لأنه إنما تبع حینئذ ما تشتهیه نفسه ۔(۲۹۴/۱۳ ، التلفیق) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جفعر ملی رحمانی ۔۱۳/ ۱۴۲۹/۱۱ھ
