حوائجِ اصلیہ میں کون کونسی چیزیں داخل ہیں؟

مسئلہ:

وجوبِ زکاةکیلئے ایک بنیادی شرط یہ ہے کہ آدمی کے پاس جومال ہے وہ اس کی حاجتِ اصلیہ سے زائد ہو،اور حوائجِ اصلیہ میں درجہ ذیل امور معتبر ہیں۔

(۱)اپنے اور اپنے اہل وعیال ،نیززیرِکفالت رشتہ داروں سے متعلق روزمرہ کے اخراجات۔

(۲)رہائشی مکان،کپڑے،سواری،آلات ِصنعت وحرفت ،مشین اور دیگروسائلِ رزق جن کے ذریعہ کوئی شخص اپنی روزی کماتاہے۔(۱)

(۳)حوائجِ اصلیہ کے مدمیں ضروریاتِ زندگی،اورروزمرہ پیش آنے والے اخراجات داخل ہیں،اور اعتبارسال بھر کے اخراجات کا ہوگا،اور آئندہ سال کی ضرورت کے لئے جوسرمایہ محفوظ رکھا جائیگا،زکوةنکالتے وقت حوائجِ اصلیہ میں شمار ہوکر اموالِ زکاة سے منہا (وضع) نہیں کیا جائیگا۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : وسببه افتراضها ملک نصاب حولي ۔۔۔۔ تام ۔۔۔۔۔ فارغ عن دین له مطالب من جهة العباد ، سواء کان لله کزکاة وخراج أو للعبد ولو کفالة أو موٴجلاً ولو صداق زوجته الموٴجل للفراق ونفقة لزمته بقضاء أو رضًا ۔ ” التنویر وشرحه “ ۔

(۱۷۴/۳ – ۱۷۷ ، کتاب الزکاة ، مطلب الفرق بین السبب والشرط والعلة)

(۲) ما في”الهدایة“:ولیس في دورالسکنی وثیاب البدن وأثاث المنازل ودواب الرکوب وعبید الخدمة،وسلاح الاستعمال زکوٰة،لأنها مشغولة بالحاجة الأصلیة ولیست بنامیة أیضًا،وعلی هذا کتب العلم لأهلها واٰلات المحترفین لما قلنا۔ (۱۶۶/۱ ، کتاب الزکاة ، الشامیة : ۶/۲ و ۱۷۸/۳ ، کتاب الزکاة ، مطلب فی زکاة المبیع وفاء)

ما في ” النتف في الفتاوی “ : واعلم أن المال علی وجهین : مال حاضر ، ومال غائب ، فأما الحاضر فعلیٰ ثلاثة أوجه : الأول : مثل الحبوب لمنفعة البیت ، أو الممالیک للخدمة ، والدواب للرکوب ، والمنازل للمسکن ، والأثواب للبس ، والأمتعة للحاجة ونحوها ، فلیس في شيء منها زکاة وإن کثرت وعظمت قیمتها ۔

(ص/۱۱۰ ، کتاب الزکاة ، ما تجب فیه الزکاة ، المال الحاضر والغائب)

اوپر تک سکرول کریں۔