خانۂ کعبہ ومسجد نبوی وغیرہ کا نقشہ گھروں میں آویزاں کرنا

مسئلہ:

بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ خانہٴ کعبہ اور روضہٴ اقدس ﷺ وغیرہ کا نقشہ جو گھروں میں آویزاں کیا جاتا ہے، بدعت ہے، جب کہ خانہٴ کعبہ ، روضہٴ اقدس ﷺ وغیرہ واجب الاحترام ہیں، اور اُن کی تصاویر نہ مطلوب ہے اور نہ ممنوع، لہٰذا خانہٴ کعبہ ، بیت المقدس، مسجد نبوی (علی صاحبها الف تحیة وسلام) اور روضہٴ اقدس ﷺ وغیرہ کا نقشہ گھروں میں آویزاں کرنا بدعت نہیں ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” الشامیة “ : قال ابن عابدین الشامي رحمه الله تعالی: والمباح غیر مطلوب الفعل، وإنما هو مخیر فیه۔ (۲۲۲/۱، مطلب: المختار أن الأصل في الأشیاء الإباحة، ط؛ بیروت)

ما في ” التعریفات الفقهیة مع قواعد الفقه للمجدّدي “ : المباح: هو ما استوی طرفاه یعني ما لیس بفعله ثواب ولا لترکه عقاب۔ (ص:۴۶۰)

(فتاویٰ فریدیہ:۳۱۶/۱)

اوپر تک سکرول کریں۔