خریدار اپنا سامان دوکان پر چھوڑ کر چلا گیا!

(فتویٰ نمبر: ۱۳۴)

سوال:

میں ایک پھیری والا تاجر ہوں،مجھ سے ایک آدمی نے کچھ چیزیں مثلاً: سبزی، فروٹ وغیرہ خریدے اوراس کی رقم بھی ادا کردی ،اور وہ خریدی ہوئی چیزیں میرے پاس ہی چھوڑ گیا یہ کہہ کر کہ میں ابھی آتا ہوں،لیکن بعد میں وہ نہیں آیا، اور میری دوکان باضابطہ ایک جگہ نہیں ہے، اب اس کے چھوڑے ہوئے سامان یا رقم کا کیا کروں؟ صدقہ کردوں یا اور کوئی شکل ہے ؟

الجواب وباللہ التوفیق:

اگر کسی چیز کے مالک کا پتہ نہ چلے، تو جب تک توقع ہو کہ شاید وہ پھر مل جائے، یا اس کا پتہ چل جائے تو اس وقت تک وہ چیزباقی رکھی جائے گی اور اگر یہ یقین ہوجائے کہ مالک کا پتہ ناممکن ہے، یا وہ ایسی چیز ہے کہ اس کے رکھنے سے اس کے خراب ہونے کا اندیشہ ہو، مثلاً: پھل، فروٹ، سبزی وغیرہ، تو اگر خود فقیر ومحتاج ہے تو اس کو استعمال کرلے، ورنہ صدقہ کردے، لیکن صدقہ کرنے کے بعد اس کا مالک آجائے تو اس کو اختیار ہوگا چاہے تو صدقہ کی اجازت دیدے،یا اپنی چیز کا ضمان طلب کرے، اگر صدقہ کی اجازت دی تو اسے صدقہ کا ثواب ملے گا اور اگر ضمان طلب کیا تو صدقہ کا ثواب صدقہ کرنے والے کو ملے گا۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : وعرف إلی أن علم صاحبها لا یطلبها أو أنها تفسد إن بقیت کالأطعمة والثمار ۔۔۔۔۔۔ فینتفع بها لو فقیرًا وإلا تصدق بها علی فقیر ۔۔۔۔۔ فإن جاء مالکها بعد التصدق خیر بین إجازة فعله ، ولو بعد هلاکها وله ثوابها أو تضمینه ۔ (۳۳۶/۶)

ما في ” البحر الرائق “ : وإن کانت شیئًا لا یبقی عرفه حتی یخاف فساده فیتصدق به ، قال أیضًا : ۔۔۔ إن لم یجئ صاحبها فله أن یتصدق بها علی الفقراء ۔

(۲۵۵/۵ ، کتاب اللقطة)

ما في ” الفتاوی الهندیة “ : الملتقط مخیر بین أن یحفظها حسبةً ، وبین أن یتصدق بها ، فإن جاء صاحبها فأمضی الصدقة یکون له ثوابها ۔ (۲۸۹/۲)

ما في ” المبسوط للسرخسي “ : فإن مالکها غیر معلوم عنده فبعد التعریف التصدق بها ۔(۱۳۸/۱۱ ، کتاب الودیعة ، ط : بیروت)

ما في ” بدائع الصنائع “ : ثم إذا عرفها ولم یحضر صاحبها مدة التعریف فهو بالخیار، إن شاء أمسکها إلی أن یحضر صاحبها، وإن شاء تصدق بها علی الفقراء، قال: فإذا تصدق بها علی الفقراء فإذا جاء صاحبها کان له الخیار، إن شاء أمضی الصدقة وله ثوابها، وإن شاء ضمن الملتقط أو الفقیر إن وجده ۔(۲۹۹/۵ ، باب حکم التقاط اللقطة) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۹/۱۱/۹ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔