(فتویٰ نمبر: ۱۶۹)
سوال:
ایک شخص بڑے پیمانے پر تجارت کرتا ہے، ہندوستان سے باہر مقیم کسی اجنبی شخص نے اس سے معاملہٴ بیع کرنا چاہا، مگر شخصِ مذکور سے اس کا تعارف نہ ہونے کی وجہ سے اس نے اس سے کسی قابلِ اعتماد چیز کا مطالبہ کیا، اس شخص نے بینک سے ایل سی(L.C.) نکلواکر اس کو ارسال کردی، اب شخصِ مذکور (بائع) نے اس ایل سی (L.C.)کی بنیاد پر اپنے یہاں کے بینک میں جاکر اس سے یہ معاہدہ کیا کہ فلاں شخص کو جس کی یہ ایل سی (L.C.)ہے، میں ایک ماہ کے اندر اس کا آرڈر کردہ مال ارسال کردوں گا، لہٰذا آج ڈالر کی جو قیمت ہے اس کو بنیاد بناکر مجھ سے معاملہ طے کرلو، مثلاً دسمبر کے اوائل میں جب بائع اور بینک کے مابین معاہدہ ہوا تھا ڈالرکی قیمت پچاس روپے تھی، پھرایک ماہ سے اوپر گزر جانے کے بعد کچھ تاخیر سے جب بائع نے مال ارسال کیا، تو بینک نے اس کو معاہدہٴ سابقہ کے مطابق فی ڈالر پچاس روپے کے حساب سے رقم ادا کی، جب کہ ڈالر کی قیمت دو روپے اتر چکی تھی، جس کے اعتبار سے بائع کو ایک لاکھ چودہ ہزار کی رقم کم ملنی تھی، مگر بینک نے ایسا نہیں کیا اور اسے پوری رقم دے کر نقصان سے بچا لیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ زائد رقم بائع کے لیے لینا جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہے تو خود استعمال کرسکتا ہے یا نہیں؟
الجواب وباللہ التوفیق:
ایکسپورٹر (Exporter) ایل سی (Letter of Credit ) میں مکتوب رقم کا مالک وحق دار اس دن ہوتا ہے، جس دن وہ شرطوں کے مطابق آرڈر کا مال امپورٹر (Importer) کو روانہ کردیتا ہے، اس سے پہلے یہ رقم ثمن قبل القبض کی حیثیت رکھتی ہے، اور ثمن قبل القبض میں تصرف صرف دوصورتوں میں درست ہے:
۱/ ثمن حاضر (Cash Price) ہو ۔
۲/ ثمن واجب فی الذمہ (Credit Price) ہو، اورمشتری (Purchasar/Buyer) بائع (Seller)کو اس کا مالک بنادے۔(۱)
جب کہ صورتِ مسئولہ میں ایل سی (Letter of Credit) کھولنے والے بینک کی جانب سے اپنے وکیل بینک کواس طرح کی ہدایت ہوتی ہے کہ ایل سی میں مکتوب رقم ایکسپورٹر (Exporter) کو اسی وقت دی جائے جب وہ ہمارے آرڈر کے مطابق مال ارسال کرے، جس سے معلوم ہوا کہ ایکسپورٹر (Exporter) فی الحال اس ثمن کا مالک نہیں، جب وہ مالک نہیں تو وہ اس طرح کا معاملہ نہیں کرسکتا(۲)، کیوں کہ یہ بیع الدین بالدین (Sale Cradit on Credit) ہے، جو شرعاً ممنوع ہے (۳)،لیکن جب آپ نے اس طرح کا معاملہ کرلیاجس میں آپ کو ایک لاکھ چودہ ہزار (114000)کی رقم زائد حاصل ہوئی ، تو آپ کے لیے اس رقم کا استعمال جائز نہیں ہے(۴)،بلا نیتِ ثواب فقرا وغربا پر صدقہ کردیں(۵)، اور آئندہ اس طرح کے معاملے سے کلی اجتناب برتیں۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : قال ابن عابدین الشامي رحمه اللّٰه تعالی: الثمن قسمان : لأنه تارة یکون حاضرًا ، کما لو اشتری عبدًا بهذا الکرّ من البرّ أو بهذا الدراهم ، فهذا یجوز التصرف فیه قبل قبضه بهبة وغیرها من المشتري وغیره ، وتارة یکون دینا في الذمة کما لو اشتری العبد بکرّ برّ أو عشرة دراهم في الذمة ، فهذا یجوز التصرف فیه بتملیکه من المشتري فقط ۔(۳۷۶/۷ ، کتاب البیوع، باب المرابحة والتولیة ، مطلب في بیان الثمن والمبیع والدین ، الموسوعة الفقهیة: ۴۴/۱۵)
(۲) ما في ” درر الحکام شرح مجلة الأحکام “ : لا یجوز لأحد أن یتصرف في ملک الغیر بلا إذنه ۔ (۹۶/۱ ، المادة : ۹۶)
ما في ” رد المحتار “ : التصرف في مال الغیر حرام ، فیجب التحرز عنه ۔(۳۷۳/۷ ، کتاب البیوع ، باب المرابحة والتولیة)
(۳) ما في ” السنن الکبری للبیهقي “ : عن نافع عن ابن عمر: أن النبي ﷺ ” نهی عن بیع الکالئ بالکالئ“ ۔۔۔۔۔۔ قال نافع: وذلک بیع الدین بالدین۔۔۔۔۔ قال أبو عبیدة: یقال: هو النسیئة بالنسیئة ۔ (۲۹۰/۵ ، ط : دائرة المعارف العثمانیة حیدرآباد دکن الهند)
ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : أجمعوا علی أن بیع الدین بالدین لا یجوز ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ إذا اشتملت المعاملة علی شغل الذمتین توجهت المطالبة من الجهتین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لذلک ، وهي بیع الدین بالدین ۔ (۱۴۷/۳۴)
(۴) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿یا أیها الذین اٰمنوا لا تأکلوا أموالکم بینکم بالباطل إلا أن تکون تجارة عن تراض منکم﴾ ۔ (سورة النساء : ۲۹)
ما في ”البحر المحیط لأبي حیان الغرناطي“:والباطل:هوکل طریق لم تبحه الشریعة،فیدخل فیه:السرقة والخیانة والغصب والقمار،وعقود الربا وأثمان البیاعات الفاسدة۔ (۳۲۲/۳)
(۵) ما في ” قواعد الفقه “ : ما حصل بسبب خبیثٍ فالسبیل رده ۔ (ص/۱۱۵ ، المادة : ۲۹۳)
ما في ” رد المحتار “ : والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده علیهم ، وإلا فإن علم عین الحرام لا یحل له ، ویتصدق به بنیة صاحبه ، وإن کان مالاً مختلطاً مجتمعًا من الحرام ، ولا یعلم أربابه ولا شیئًا منه بعینه حل له حکمًا ، والأحسن دیانة التنزه عنه ۔
(۲۲۳/۷ ، کتاب البیوع ، باب البیع الفاسد ، مطلب فیمن ورث مالاً حرامًا ، ط : دار الکتاب دیوبند) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۳۰/۱/۱۸ھ
