مسئلہ:
اگر کسی شخص نے قربانی کی نیت سے ایک جانور خریدا، اور وہ اس کے بدلے کسی دوسرے جانور کی قربانی کرنا چاہے، تو دوسرا جانور پہلے جانور کی قیمت سے کم پر نہ خریدے، اور اگر اس نے دوسرا جانور پہلے جانور سے کم قیمت پر خرید لیا، تو پہلے اوردوسرے جانور کی قیمت میں جتنا فرق ہے اتنی قیمت صدقہ کردے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : رجل اشتری شاة للأضحیة وأوجبها بلسانه ثم اشتری أخری جاز له بیع الأولیٰ فی قول أبی حنیفة ومحمد رحمهما الله تعالی، وإن کانت الثانیة شرا من الأولی فذبح الثانیة، فإنه یتصدق بفضل ما بین القیمتین، لأنه لما أوجب الأولیٰ بلسانه فقد جعل مقدار مالیة الأولیٰ لله تعالی، فلا یکون له أن یستفصل لنفسه شیئاً، ولهذا یلزمه التصدق بالفضل۔(۲۹۴/۵، الباب الثاني في وجوب الأضحیة بالنذر وما هو في معناه)
