مسئلہ:
آج کل عام طور پر کمپنیاں اپنی مصنوعات کو فروغ دینے اورگاہکوں کی ترغیب کے لیے ایک مدت تک فری سروس (Free Service)کا یقین دلاتی ہے،خرید وفروخت میں اس طرح کی اضافی شرط سے یہ معاملہ شرعاً فاسد ہے، مگرفساد کا حکم لگانے میں شریعت کا منشا امکانی جھگڑے کا دروازہ بند کرنا ہے، اور جو شرطیں معروف ومروج ہوجاتی ہیں، وہ جھگڑے ونزاع کا سبب نہیں بنتیں، لہٰذا ایسی شرطوں کو فقہاء کرام نے جائز اور قابلِ عمل قرار دیا ہے، پس فری سروس کی شرط کے ساتھ مصنوعات کی خرید وفروخت اور اس سے فائدہ اٹھانا جائز ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
(جامع الترمذي: ۳۴۳/۲، السنن لأبي داود: ص/۵۶۰، فقه النوازل: ۱۱۹/۳، انعام الباري: ۳۱۸/۶)
(جدید فقہی مسائل : ۳۸۷/۱ )
