مسئلہ:
آج کا دور اعلان و تشہیر اور ایڈ وٹائز کا دور ہے ،ہر شعبہ میں تشہیر پر خوب توجہ دی جارہی ہے، خواہ وہ سیاست ہو یا تجارت،زراعت ہویا صنعت وحِرفت، انسانی خدمات کے ادارے ہوں یا تعلیمی شعبے، اعلان وتشہیر میں ضابطہ یہ ہے کہ:
۱– وہ مقاصدِ شرع کے خلاف نہ ہو ورنہ وہ حرام ہے۔(۱)
۲– جس چیز کا اعلان کیاجارہا ہے وہ خلافِ حقیقت نہ ہو، ورنہ غررہے ،جس سے اسلام نے منع کیاہے ، (حضور ا نے بیعِ غرراور دھوکہ دہی سے منع فرمایا)۔(۲)
۳– اعلان وتشہیر میں ممنوعاتِ شرعیہ کا ارتکاب لازم نہ آتاہو، مثلاً کوئی دواساز کمپنی اپنی دوا کی تشہیر کے لیے کسی خاتون کی خدمات حاصل کرے، اوروہ اپنے جسم کے اس حصے کو اخباروں اور ٹی وی پر ظاہر کرے ، جہاں اس دوا کے مفید اثرات مرتب ہوئے ہوں۔(۳)
۴– یہ اعلان وتشہیر کسی حرام وناجائزکام میں وقوع کاسبب وذریعہ نہ بنے،جیسے فلموں کی یا خرید وفروخت کی اُن صورتوں کی تشہیر جو شرعاً ناجائزوحرام ہے ۔(۴)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” الموافقات في أصول الأحکام للشاطبي “ : ومجموع الضروریات خمسة : وهي حفظ الدین والنفس والنسل والمال والعقل ۔
(۴/۲ ، کتاب المقاصد ، المسئلة الأولی)
(۲) ما في ” الصحیح لمسلم “ : عن أبي هریرة قال : نهی رسول الله ﷺ عن بیع الحصاة وبیع الغرر “ ۔
(۲/۲ ، البیوع ، جامع الترمذي :۲۳۳/۱، البیوع ، باب ما جاء في کراهیة بیع الغرر)
ما في ” الصحیح لمسلم “ : عن ابن عمر : ” أن رسول الله ﷺ نهٰی عن النجش “ ۔(۳/۲ ، کتاب البیوع)
ما في ” شرح النووي علی هامش مسلم “ : النجش : وهو أن یزید في ثمن السلعة لا لرغبة فیها ، بل لیخدع غیره ولغیره لیزید ویشتریها ، وهذا حرام بالإجماع ۔ (۳/۲)
ما في ” المبسوط للسرخسي “ : الغرر ما یکون مستور العاقبة ۔ (۱۹۴/۱۲)
(۴-۳) ما في ” المقاصد الشرعیة “ : إن الوسیلة أو الذریعة تکون محرمة إذا کان المقصد محرما ، وتکون واجبة إذا کان المقصد واجبا ۔ (ص/۴۶) ما في ” قواعد الفقه “ : درء المفاسد أولی من جلب المنافع ۔ (ص/۸۱ ، رقم القاعدة :۱۳۲)
