خنثیٰ مشکل کی قربانی شرعاً جائز نہیں ہے

مسئلہ:

خنثیٰ مشکل بکرے کی قربانی کرنا جائز نہیں ہے، کیوں کہ اس کا گوشت اچھی طرح پکتا نہیں، لیکن اگر کسی نے اتفاقاً اس کی قربانی کرلی اور اس کا گوشت اچھی طرح پک گیا تو قربانی صحیح ہوگی، کیوں کہ عدمِ جواز کی علت گوشت کا اچھی طرح نہ پکنا تھا، اب جب پک گیا تو یہ ظاہر ہوا کہ عدمِ جواز کی علت نہیں پائی گئی، اور یہ اصول بھی ہے کہ ارتفاعِ علت ارتفاعِ حکم کو  مستلزم ہے۔

الحجة علی ما قلنا

ما في ’’الفتاوی الهندیة ‘‘:لا تجوز التضحیة بالشاة الخنثی لأن لحمها لا ینضج۔ (۲۹۹/۵)

ما في ’’ الدر المختار مع الشامیة ‘‘: قال العلامة ابن عابدین: و بهذا التعلیل اندفع ما أورده ابن وهبان من أنها لا تخلوا إما أن تکون ذکرا أو أنثی وعلی کل تجوز۔ (۳۹۴/۹)

ما في ’’موسوعة مصطلحات أصول الفقه عند المسلمین‘‘: وبقاعدة فقهیة: ’’ متی لم  تکن العلة لم یکن الحکم‘‘۔’’ انتفاء العلة لانتفاء الحکم‘‘ ۔ (۹۵۸/۱،۹۷۶، باب العلة)

(فتاوی محمودیه:۳۷۴/۱۷ ، جامع الفتاوی:۴۰۵/۴)

اوپر تک سکرول کریں۔