مسئلہ:
میت اگر خُنثیٰ مشکل ہو اور بالغ ہو، تو اس کی نمازِ جنازہ میں وہی دعا پڑھی جائے گی، جو بالغ مرد وعورت کی دعا ہے، اور اگر بچہ ہو تو موٴنث کی دعا پڑھی جائے، جب کہ بعضے فقہاء دونوں دعاوٴں میں اختیار کے قائل ہیں کہ اگر مذکر کی دعا پڑھی، تو ضمیر میت کی طرف راجع ہوگی، اور اگر موٴنث کی پڑھی تو بتاویلِ نفس ہوکر نفس کی طرف راجع ہوگی۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” مراقی الفلاح بإمداد الفتاح “ : وسننها قیام الإمام بحذا المیت ذکرًا کان أو أنثی، والثناء بعد التکبیرة الأولی، والصلاة علی النبي ﷺ بعد الثانیة، والدعاء للمیت بعد الثالثة، ولا یتعین له شيء وإن دعاء المأثور فهو أحسن وأبلغ۔ ۔۔۔۔ والرابعة من السنن الدعاء للمیت ولنفسه وجماعة من المسلمین بعد التکبیرة الثالثة۔ (ص:۲۱۴)
ما في ” الأشباه والنظائر لإبن نجیم “ : وحاصله أنه کالأنثی في جمیع الأحکام إلا في مسائل؛ لا یلبس حریرًا ولا ذهبًا ولا فضة، ولا یتزوج من رجل، ولا یقف في صف النساء، ولا حد بقذفه، ولا یخلو بامرأة، ولا یقع عتق وطلاق علقا علی ولادتها أنثی به، ولا یدخل تحت قوله کل أمة۔
(ص:۲۷۸، الفن الثالث، أحکام الخنثی المشکل، ط: بیروت)
(فتاویٰ محمودیہ: ۱۴۹/۱۳، احسن الفتاویٰ: ۲۱۲/۴، فتاویٰ دار العلوم زکریا: ۶۲۶/۲)
