مسئلہ:
عام حالات میں خواتین کا اپنے سر کے بالوں کو کٹوانا، کتروانا، فیشن کے طور پر چھوٹے کروانا، خواہ سامنے کی جانب سے ہو، یا دائیں بائیں جانب سے ہو، یا پیچھے کی جانب سے ہو، یعنی کسی بھی جانب سے ہو، مردوں کے ساتھ مشابہت کی وجہ سے ناجائز وگناہ ہے(۱)، ہاں! اگر کسی خاتون کے بال بہت زیادہ لمبے ہوں، اور انہیں سنبھالنا واقعةً مشکل ہوجائے، تو اس عذر کی وجہ سے اسے کچھ بال کاٹنے کی اجازت ہوگی، اسی طرح کسی کے بال عام عادت سے چھوٹے ہوں، اور انہیں بڑھانے کے لیے بالوں کو کاٹنے کی ضرورت پیش آجائے، تو بالوں کی نوک یعنی سِروں کو کاٹنا جائز ہے، اسی طرح کسی کے بالوں کی دو نوکیں نکل آئیں، تو ایسے بالوں کو کاٹنا بھی جائز ہے، بشرطیکہ کاٹنے میں زیادہ مبالغہ نہ کیاجائے، مذکورہ صورتوں میں بالوں کو کٹوانے کی اجازت محض اس لیے ہے کہ یہ کٹوانا تشبہ بالرجال (مردوں کے ساتھ مشابہت) کی غرض سے نہیں، بلکہ بسببِ عذر وبغرضِ علاج ہے۔(۲)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” مشکوة المصابیح “ : عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قال رسول الله ﷺ: ”لعن الله المتشبّهین من الرجال بالنساء، والمتشبّهات من النساء بالرجال“۔
(ص:۳۸۰، باب الترجل)
وفیه : عن علي رضي الله عنه : نهی رسول الله ﷺ ” أن تحلق المرأة رأسها “ ۔
وفي ” حاشیة مشکوة المصابیح “ : قوله: أن تحلق المرأة رأسها وذلک لأن الذوائب للنساء کاللحی للرجال في الهیئة والجما ۔ (ص:۳۸۴، باب الترجل)
(۲) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : قطعت شعر رأسها أثمت ولعنت ۔۔۔۔۔۔ والمعنی الموٴثر التشبه بالرجال ۔ اھ ۔ (۴۹۸/۹، کتاب الحظر والإباحة)
ما في ” الهندیة “ : ولو حلقت المرأة رأسها فإن فعلت لوجع أصابها لا بأس به، وإن فعلت ذلک تشبها بالرجل فهو مکروه ۔ کذا في الکبری ۔(۳۵۸/۵، الباب التاسع عشر)
ما في ” جمهرة القواعد الفقهیة “ : إذا ارتفعت العلة ارتفع معلولها ۔ (۶۱۶/۲، رقم المادة:۱۱۸)
(فتاویٰ رحیمیہ:۱۲۰/۱۰، فتاویٰ بنوریہ، رقم الفتویٰ: ۱۳۱۶۰)
