مسئلہ:
بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ – ایسی عورتیں جو اپنے خاوند کے انتقال کے بعد زندہ رہتی ہیں، وہ بدبخت ہیں، او رجو عورتیں خاوند سے پہلے انتقال کرجاتی ہیں، وہ خوش نصیب ہیں- اُن کا یہ خیال غلط ہے، کیوں کہ خوش بختی اور بدبختی انسان کے اچھے اور برے اعمال پر منحصر ہوتی ہے، پہلے یا بعد میں مرنے پر نہیں۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” مشکوة المصابیح “ : عن أبي بکرة أن رجلا قال: یا رسول الله! أي الناس خیر؟ قال: ” من طالَ عمُره وحسُن عمله “ قال: فأي الناس شرّ ؟ قال: ” من طالَ عمُره وقصُر عمله “۔ (ص:۴۵۰)
ما في ” مرقاة المفاتیح “ : وقال الطیبي رحمه الله: وقد سبق أن الأوقات والساعات کرأس المال للتاجر فینبغي أن یتجر فیما یربح، وکلما کان رأس ماله کثیرًا کان الربح أکثر، فمن مضی لطیبه فاز وأفلح۔ (۷۸/۵)
(آپ کے مسائل اور ان کا حل : ۱۲۳/۱، تخریج شدہ)
