دائرۂ اسلام سے خارج کردینے والے کلمات

مسئلہ:

کبھی انسان انتہائی مشکلات وپریشانیوں میں گھِر جاتا ہے، جو اس کی تقدیر کا حصہ ہوا کرتی ہیں، ان حالات میں وہ خوب دعائیں مانگتا ہے، مگر جب اپنی دعا کا اثر نہیں دیکھتا تو جہالت ونادانی میں یوں کہتا ہے:”ہم دل سے دعا کررہے ہیں لیکن اللہ کہاں ہے؟اور وہ ہماری دعا کیوں نہیں سنتا؟ وہ ہے بھی یا نہیں؟اگر ہے تو ہماری مدد کیوں نہیں کرتا؟ وہ ہمارے اور ہمارے بچوں کا درد کیوں نہیں دیکھتا؟ اسے ہمارے اوپر رحم کیوں نہیں آتا؟“ وغیرہ۔

اس طرح کے کلمات اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں شک وتردّد ظاہر کرتے ہیں، جو بلاشبہ کفر ہے(۱)، اس طرح کے کلمات کہنے کی وجہ سے انسان اسلام سے خارج ہوجاتا ہے، اس کا نکاح بھی ٹوٹ جاتا ہے، اور اس پر ان کفریہ کلمات پر ندامت کے ساتھ ساتھ بصدقِ دل توبہ واستغفار لازم ہوجاتا ہے، نیز اس پر تجدید ایمان ونکاح بھی ضروری ہوجاتا ہے(۲)،اس لیے مصائب وپریشانیوں میں رضا بالقضاء اور قبولیتِ دعا کی امید کے ساتھ دعاکرتے رہنا چاہیے، اور ایسے کلمات سے بچنا چاہیے جو انسان کو دائرہٴ اسلام سے خارج کردیتے ہیں۔

الحجة علی ما قلنا :

(۱)ما في ” البحر الرائق “ : فیکفر إذا وصف الله تعالی بما لا یلیق به۔(۲۰۲/۵ ، کتاب السیر، باب أحکام المرتدین)

ما في ” الفتاوی التاتارخانیة “ :إذا وصف الله بما لا یلیق به أو سخر بإسم من أسماء الله تعالی۔۔۔۔یکفر۔(۲۳۴/۴،کتاب أحکام المرتدین،فصل فیما یقال في ذات الله تعالی)

(۲) ما في ” الفتاوی الهندیة “ : ما کان في کونه کفراً اختلاف فإن قائله یؤمر بتجدید النکاح وبالتوبة والرجوع عن ذلک بطریق الاحتیاط۔

(۲۸۳/۲ ، قبیل باب العاشر في البغاة، الفتاوی التاتارخانیة: ۲۳۴/۴ ، کتاب أحکام المرتدین، قبیل فصل فیما یقال في ذات الله تعالی)

اوپر تک سکرول کریں۔