دسہرہ کے موقع پر غیر مسلم کا مسلمان سے بکرا ذبح کرانا

مسئلہ:

غیر مسلم اپنے تہوار ” دسہرہ“ کے موقع پر بُت کے نام بکرا ذبح کرتے ہیں، وہ یہ بکرا کسی مسلمان کے ہاتھوں ذبح کراتے ہیں، مسلمان ” بسم اللہ اللہ اکبر“ کہہ کر اُسے ذبح کرتا ہے، مگر غیر مسلم کی نیت بُت کے نام ذبح کرنے کی ہوتی ہے، تو محض مسلمان کے ” بسم اللہ اللہ اکبر“ پڑھ کر اُس کو ذبح کرنے سے جانور حلال نہیں ہوگا، اور نہ اس جانور کا گوشت کھانا مسلمان کے لیے حلال ہوگا۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿حرِّمتْ علیکم المیتة والدم ولحم الخنزیر ومآ أهلَّ لغیر الله به والمنخنقة والموقوذة والمتردِّیة والنطیحة ومآ أکَل السبُع إلا ما ذکّیتُم وما ذُبح علی النُصُب﴾۔ (سورة المائدة: ۳)

ما في ” روح المعاني “ : واختلف فیها فقیل في حجارة کانت حول الکعبة وکانت ثلاثمائة وستین حجرًا، وکان أهل الجاهلیة یذبحون علیها – فعلی – علی أصلها، ولعل ذبحهم علیها کان علامة لکونه لغیر الله تعالی، وقیل: هي الأصنام لأنها تنصب فتعبد من دون الله، و” علی “ إما بمعنی اللام، أو علی أصلها بتقدیر وما ذبح مسمی علی الأصنام۔

(۸۷/۴، تفسیر المظهری:۵۲/۳)

(فتاویٰ دار العلوم دیوبند ، رقم الفتویٰ : ۲۷۰۹۱، فتاویٰ محمودیہ : ۸۱/۲۷ ،ط؛ میرٹھ ، فتاویٰ عزیزی : ص/۵۳۵)

اوپر تک سکرول کریں۔