دس محرم کو قبروں پر پانی ڈالنا

مسئلہ:

بعض علاقوں میں محرم کی دسویں تاریخ کو قبروں پر پانی ڈالنے یا مسور دال وغیرہ ڈالنے کو ثواب کا کام سمجھ کر کیا جاتا ہے، چوں کہ یہ عمل نہ قرآن وحدیث سے ثابت ہے، نہ خیر القرون میں ہوا ہے، نہ ائمۂ دین سے مروی ہے، اور نہ فقہاء کرام کا تجویز شدہ ہے، لہٰذا یہ عمل ثواب کے ارادے سے کرنا بدعت اور موجبِ عذاب ہوگا۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” صحیح البخاري “ : عن عائشة رضی الله عنها قالت: قال رسول الله ﷺ: ” من أحدث في أمرنا هذا ما لیس فیه فهو ردٌّ “۔

(۳۷۱/۱، کتاب الصلح، باب إذا اصطلحوا- الخ، رقم الحدیث:۲۶۹۷، الصحیح لمسلم: ۷۷/۲، کتاب الأقضیة، السنن لأبي داود:ص/۶۳۵، کتاب السنة، باب في لزوم السنة، رقم الحدیث:۴۶۲۲، السنن لإبن ماجة:ص/۱۳، مشکوة المصابیح: ص/۲۷، باب الاعتصام بالکتاب والسنة، الفصل الأول)

ما في ” بذل المجهود “ : سواء کان في العمل أو الاعتقاد فهو مردود․(۳۳/۱۳، رقم الحدیث: ۴۶۲۲)

ما في ” رد المحتار “ : البدعة ما أحدث علی خلاف الحق المتلقی عن رسول الله ﷺ من علم أو عمل أو حال بنوع شبهة واستحسان، وجعل دیناً قویماً وصراطاً مستقیماً۔

(۲۵۶/۲، مطلب البدعة خمسة أقسام)

ما في ” کتاب التعریفات للجرجاني “ : البدعة: هي الأمر المحدث الذي لم یکن علیه الصحابة والتابعون ولم یکن مما اقتضاه الدلیل الشرعي۔ (ص:۴۷)

(فتاویٰ فریدیہ:۲۹۲/۱۔۳۲۵/۱)

اوپر تک سکرول کریں۔