(فتویٰ نمبر ۵۳)
سوال:
شریعتِ مطہرہ میں دعا میں توسل جائز ہے یا نہیں ؟
الجواب وباللہ التوفیق:
توسل خواہ اَحیا سے ہو یا اموات سے ، اپنے اعمال سے ہو یا غیر کے اعمال سے، بہر حال اس کی حقیقت اور ان سب صورتوں کا مرجع توسل برحمة اللہ تعالی ہے ، بایں طور کہ فلاں مقبول بندہ پر جو رحمت ہے اس کے توسل سے دعا کرتا ہوں ، یا فلاں نیک عمل اپنا یا غیر کا جو محض آپ (تبارک وتعالیٰ)کی عطا اور رحمت ہے ، اس سے توسل کرتا ہوں ، چوں کہ توسل بالرحمة کے جواز بل کہ َارجیٰ للقبول ہونے میں کوئی شبہ نہیں، اور یہ سب صورتِ مذکورہ کو شامل ہے، لہٰذا توسل کی مذکورہ سب صورتیں جائز ہیں،جیسا کہ آیتِ شریفہ:﴿ھُنَالِکَ دَعَا زَکَرِیَّا رَبَّه﴾ (بس) وہیں زکریااپنے پروردگار سے دعا کرنے لگے۔(اٰل عمران:۳۸)میں حضرت زکریا علیہ السلام کا حضرت مریم علیہا السلام پر رحمت سے توسل اور آپ علیہ السلام کی دعا کا قبول ہونا مذکور ہے۔
اصحابِ غار نے اپنے اعمال کے توسل سے دعا کی اور غار سے نجات پائی، اس کی حقیقت بھی وہی ہے کہ یا اللہ ! آپ کی جس رحمت نے ہمیں فلاں فلاں عملِ صالح کی توفیق عطا فرمائی، اس رحمت کے توسل سے دعا کرتے ہیں۔
نیز حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل یہود آپ کے توسل سے مشرکین پر فتح ونصرت کی دعائیں کیا کرتے تھے،جیسا کہ آیتِ کریمہ :﴿وَلَمَّا جَآءَ همْ کِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهمْ وَکَانُوْا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَی الَّذِیْنَ کَفَرُوْا﴾ ۔”اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے وہ کتاب آئی(یعنی قرآن) جو اس(تورات) کی تصدیق بھی کرتی ہے جو پہلے سے ان کے پاس ہے،( تو ان کا طرزِ عمل دیکھو!)باوجودیکہ کہ یہ خود شروع میں کافروں( یعنی بت برستوں) کے خلاف (اس کتاب کے حوالے سے ) اللہ سے فتح کی دعائیں مانگا کرتے تھے “۔ (سورة البقرة :۸۹)کی تفسیر میں علامہ آلوسی علیہ الرحمة فرماتے ہیں : ” یہ آیت بنو قریظہ اور بنو نضیر کے بارے میں نازل ہوئی کہ وہ آپ کی بعثت سے پہلے ہی سے اوس اور خزرج کے سامنے آپ کا ذکر کیا کرتے تھے (ابن عباس، قتادہ)، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ آپ کے طفیل اللہ تعالیٰ سے مشرکین کے خلاف مدد طلب کیا کرتے تھے، جیسا کہ امام سدی نے روایت کیا ہے کہ جب یہود ومشرکین کے درمیان جنگ شدت اختیار کرجاتی تو وہ تورات نکال کر اپنے ہاتھوں کو اس جگہ رکھتے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہوتا، اوریوں کہتے: ”اے اللہ ! بے شک ہم تیرے اس نبی ٴبرحق کے صدقے تجھ سے دعا کرتے ہیں،جن کو تونے آخری زمانے میں ہماری طرف مبعوث فرمانے کا ہم سے وعدہ کیا ہے، کہ آج تو ہمارے دشمن کے مقابلے میں ہماری مدد فرما، پس ان کی مدد کی جاتی۔“
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” روح المعاني “ : نزلت في بني قریظة والنضیر کانوا یستفتحون علی الأوس والخزرج برسول اللّٰه ﷺ قبل مبعثه ، قاله ابن عباس رضي اللّٰه عنه وقتادة ، والمعنی یطلبون من اللّٰه تعالی أن ینصرهم به علی المشرکین ، کما روی السدي أنهم کانوا إذا اشتد الحرب بینهم وبین المشرکین أخرجوا التوراة ووضعوا أیدیهم علی موضع ذکر النبي ﷺ وقالوا : اللّٰهم إنا نسألک بحق نبیک الذي وعدتنا أن تبعثه في آخر الزمان أن تنصرنا الیوم علی عدونا ، فینصرون ۔ (۴۳۵/۱)
ما في "الدر المنثور”: وأخرجه السيوطي عن أبي نُعيم، والحاكم، والبيهقي عن ابن عباس رضي الله عنهما. (١٦٩/۱)
ما في ” مشکوة المصابیح “:عن أمیة بن خالد بن عبد اللّٰه بن أسید رضي اللّٰه تعالی عنه عن النبي ﷺ أنه کان یستفتح بصعالیک المهاجرین۔رواه في شرح السنة۔(ص/۴۴۷)
وما في ” السنن لأبن ماجة “ : عن عثمان بن حنیف أن رجلاً ضریر البصر أتی النبي ﷺ فقال : أدع اللّٰه لي أن یعافیني ، فقال : ” إن شئت أخرت لک وهو خیر ، وإن شئت دعوت “ ، فقال : أدعه ، فأمره أن یتوضأ فیحسن وضوء ه ، ویصلي رکعتین ویدعو بهذا الدعاء : ” اللّٰهم إني أسألک وأتوجه إلیک بمحمد نبي الرحمة ، یا محمد ! إني قد توجهت بک إلی ربي في حاجتي هذه لتقضي ، اللّٰهم فشفعه فيّ “ ، قال أبو اسحٰق : هذا حدیث صحیح ۔ (ص/۹۹)
وما في ”مشکوة المصابیح “ : عن أنس رضي اللّٰه تعالی عنه أن عمر بن الخطاب کان إذا قحطوا استسقی بالعباس بن عبد المطلب فقال : ” اللّٰهم إنا کنا نتوسل إلیک بنبینا فتُسقینا ، وإنا نتوسل إلیک بعم نبینا فأسقنا ، فیُسقوا “ ۔ رواه البخاري ۔(ص/۱۳۲)
(أحسن الفتاوٰی: ۳۳۲/۱، إمداد الفتاویٰ :۳۳۹/۵، أحکام الدعاء والوسیلة: ص/۱۱۰، کفایت المفتی : ۸۵/۲ ، فتاویٰ حقانیه :۲۱۷/۱، خیر الفتاویٰ:۱/ ۱۹۱) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔ ۱۱/۴/۱۴۲۹ھ
