مسئلہ:
بعض علاقوں میں نکاح یا ولیمہ کی دعوت میں شریک ہونے والے لوگ اپنی رضا ورغبت سے کچھ روپیہ یا کوئی سامان لڑکی یا لڑکے کو بطور ہبہ دیا کرتے ہیں ، جس کا باقاعدگی سے رجسٹر میں اندراج بھی کیا جاتا ہے، تاکہ یہ معلوم ہوکہ کس نے دیا ، اور دینے والے کی لڑکی یا لڑکے کی شادی کے موقع پر یہ بھی اپنی جانب سے کچھ ہدیہ پیش کرسکے ، شرعاً یہ عمل جائز ہے، کیوں کہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’تہادوا تحابوا ‘‘ ہدیہ لیا دیا کرو۔
لیکن اگر نقد روپیہ یا سامان نہ دینے پر ملامت کی جاتی ہو یاسماج کا کوئی دباؤ ہو تو یہ جبراً وصولی ٔنقد وسامان ہوگا ، جو شرعاً جائز نہیں ہے۔
الحجة علی ما قلنا
ما في ’’السنن لأبي داود‘‘: عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال : قال رسول اللهﷺ : ’’ من صنع إلیکم معروفاً فکافئوه فإن لم تجدوا ما تکافئو به فادعوا له حتی تروا أنکم قد کافأتموه ‘‘۔(ص۲۳۵:، کتاب الزکاة، باب عطیة من سأل بالله، السنن للنسائي: ۲۷۶/۱، کتاب الزکاة ، من سأل بالله)
ما في ’’عون المعبود‘‘: قوله : ومن صنع إلیکم معروفاً أي أحسن إلیکم إحساناً قولیاً أو فعلیاً فکافئوه أي أحسنوا إلیه مثل ما أحسن إلیکم لقوله تعالی : {هل جزاء الإحسان إلا الإحسان}۔ (سورة الرحمن :۶۰) وقال تعالی : {وأحسن کما أحسن الله إلیک}۔ (سورة القصص:۷۷) (۵۴/۵ ، باب عطیة من سأل بالله)
ما في ’’ الدر المختار مع الشامیة ‘‘: وفي الفتاوی الخیریة: وإن کان العرف خلاف ذلک بأن کانوا یدفعونه علی وجه الهبة ولا ینظرون في ذلک إلی إعطاء البدل فحکمه حکم الهبة في سائر أحکامه فلا رجوع فیه بعد الهلاک أو الاستهلاک۔ والأصل فیه أن المعروف عرفاً کالمشروط شرطاً ۔ (۴۳۴/۸ ، کتاب الهبة)
