دفعِ مصائب وبلیّات کے لیے ختم بخاری شریف کا اہتمام کرنا

مسئلہ:

بعض لوگ کہتے ہیں کہ دفعِ مصائب وبلیّات کے لیے بخاری شریف ختم کرکے جو دعائیں مانگی جاتی ہیں، اس کا قرآن وحدیث میں کوئی ثبوت نہیں ، اس لیے یہ بدعت ہے، جب کہ دفعِ مصائب کے لیے جو ختم کیا جاتا ہے، مثلاً سوالاکھ مرتبہ کلمہٴ طیبہ یا آیت الکرسی کا پڑھنا ، یا بخاری شریف کا ختم کرکے دعا مانگنا، یہ بطورِ علاج ہے ، اس کے لیے قرآن وحدیث سے ثبوت ضروری نہیں ہے، جیسے حکیم نسخے میں لکھتے ہیں: ”عُناب ۵/ دانہ ، بادام ۷/ دانہ“ کہ تجربات سے ثابت ہیں،اس کے لیے قرآن وحدیث سے ثبوت طلب کرنا بے محل ہے، اور جب اِس ختم کی شان مُعالَجہ کی ہے، تعبُّد وعبادت کی نہیں، تو یہ بدعت نہیں ، بلکہ اس کو بدعت کی حد میں لانا بدعت ہے، بالخصوص جب کہ اس کی اصل بھی موجود ہے کہ ذکرِ خیر کے بعد دعا قبول ہوتی ہے، اور بخاری شریف کے کلماتِ خیر پر مشتمل ہونے میں کس کو شبہ ہے، لہٰذا دفعِ مصائب وبلیّات کے لیے بخاری شریف کا ختم کرکے دعائیں مانگنا درست ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” مقدمة لامع الدَّراري علی جامع البخاري “ : وقال الشیخ عبد الحق الدهلوي في أشعة اللمعات: قرأ کثیر من المشایخ والعلماء والثقات صحیح البخاري لحصول المرادات وکفایة المهمات وقضاء الحاجات، ودفع البلیات وکشف الکربات وصحة الأمراض وشفاء المرضیٰ عند المضائق والشدائد فحصل مرادهم وفازوا بمقاصدهم ووجدوه کالتریاق مجرباً، وقد بلغ هذا المعنی عند علماء الحدیث مرتبة الشهرة والاستفاضة۔ ونقل السید جمال الدین المحدث عن استاذه السید أصیل الدین أنه قال: قرأت صحیح البخاري نحو عشرین ومائة مرة في الوقائع والمهمات لنفسي والناس آخرین فبأي نیة قرأته حصل المقصود وبقي المطلوب ۔۔۔۔۔ وهکذا قال الشیخ مشائخنا الشاه عبد العزیز الدهلوي في ” البستان“: ان قرأته في الشدائد والأمراض وخوف الأعداء والغلاء وسائر البلایا تریاق مجربٌ۔(۲۳/۲۴/۱ ، مقدمة اللامع، الفائدة الثانیة، المکتبة الأشرفیة دیوبند)

(فتاویٰ محمودیه: ۲۹۶/۳، کراچی، فتاویٰ حقانیه:۷۳/۲، فتاویٰ رشیدیه: ص/۱۶۶، تالیفاتِ رشیدیه: ص/۱۵۲)

اوپر تک سکرول کریں۔