(فتویٰ نمبر: ۱۴)
سوال:
۱-ایک شخص دونوں فریقین سے دلالی لے رہا ہے، جب کہ دونوں کی طرف سے محنت اس کو لگی ہو، دونوں کے درمیان اگریمنٹ(Agreement) کراتا ہو، اور بھاوٴ تاوٴ کرکے سودا جمایا ہو، توکیا ایسا شخص دونوں طرف سے دلالی وصول کرسکتا ہے؟
۲– اوراگر محنت بالکل نہ لگی ہو صرف مکان یا دکان بتلایا ہو، یعنی دلالت ورہنمائی کی ہو، تو اس کے لیے دلالی دینا جائز ہے؟
الجواب وباللہ التوفیق:
۱– دلالی دونوں طرف سے جائز ہے، جب کہ عرف ہو، اصالةً دلالی کا معاملہ ناجائز ہے، اور عرف کی بنا پر فقہائے کرام نے اس کی اجازت دی ہے، اور یہ اجازت اپنے عموم کی حیثیت سے یک طرفہ اور دوطرفہ دونوں کو شامل ہے، کذا في الشامیة في کتاب الإجارة ۔ (۱)
۲– دلالی کی یہ صورت جس میں بظاہر دلال کو کوئی محنت ومشقت نہیں کرنا ہوتی ہے،مگر اس کا پیشہ یہی ہو اور طلبِ دلالت پر دلالی کرے، تو اس صورت میں وہ اُجرت کا مستحق نہیں ہونا چاہیے۔(۲)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” رد المحتار “ : قال في التاترخانیة : وفي الدلال والسمسار یجب أجر المثل وما تواضعوا علیه أن في کل عشرة دنانیرکذا ، فذاک حرام علیهم ، وفي الحاوي : سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار ، فقال : أرجو أنه لا بأس به، وإن کان في الأصل فاسدًا لکثرة التعامل ، وکثیر من هذا غیر جائز ، فجوزوه لحاجة الناس إلیه کدخول الحمام ۔ (۷۵/۹ ، کتاب الإجارة ، مطلب في أجرة الدلال، ط : دار الکتاب دیوبند)
(فتاویٰ محمودیه :۶۱۷/۱۶)
(۲) ما في ” الفتاوی الهندیة “ : وفي الدلال والسمسار یجب أجر المثل وما تواضعوا علیه أن من کل عشرة دنانیرکذا ، فذاک حرام علیهم ۔ کذا في الذخیرة، دفع ثوباً إلیه وقال : بعه بعشرة فما زاد فهو بیني وبینک ، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ولو باعه بإثني عشر أو أکثر فله أجر مثل عمله ، وعلیه الفتوی ۔ هکذا في الغیاثیة ۔(۴۵۰/۴ ،۴۵۱)
(فتاویٰ محمودیه :۶۱۸/۱۶) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۸/۱۲/۶ھ
