دوائیں ایکسپائر ہونے کے بعد بدلنا

مسئلہ:

دوا ساز کمپنیاں، میڈیکل والوں کو دوائیں فروخت کرتی ہیں، تاکہ وہ آگے ضرورتمند افراد کو یہ دوائیں فروخت کردیں، بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ دوائیں میڈیکل والوں کے پاس پڑی کی پڑی رہ جاتی ہیں، اور ان کی مدتِ استعمال بھی ختم ہوجاتی ہے، ایسی صورت میں میڈیکل والے، دواساز کمپنیوں کو یہ دوائیں واپس کرتے ہیں، اور اُن کے بدلے اُن سے فریش دواوٴں کا مطالبہ کرتے ہیں، دوا ساز کمپنیوں کا ان دواوٴں کو واپس لینا اور اُن کے بدلے فریش دوا دینا محض تبرع واحسان ہے، کیوں کہ جب دوائیں فروخت کردی گئیں، اور ان پر ایکسپائر تاریخ بھی لکھی ہوئی تھی، اور بیع تام ہوگئی، تو ایکسپائر ہونے کی صورت میں دواساز کمپنیوں کا یہ دوائیں بدل کر دینا ضروری نہیں ہے(۱)، البتہ اگر بوقتِ عقد یہ بات طے ہو کہ ایکسپائر ہونے کے بعد بدل کر دی جائیں گی، تو پھر بدل کر دینا ضروری ہوگا۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” الهدایة “ : وإذا حصل الإیجاب والقبول لزم البیع ، ولا خیار لواحد منهما۔(۲۰/۳، کتاب البیوع، ملتقی الأبحر:۱۰/۳، کتاب البیوع)

ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : (وإذا وجدا لزم البیع)بلا خیار إلا لعیب أو رؤیة۔التنویر وشرحه۔(۴۷/۷،کتاب البیوع،مطلب ما یبطل الإیجاب سبعة)

(۲) ما في ” جامع الترمذي “ : عن عبد الله بن عمرو بن عوف المزني عن أبیه عن جده أن رسول الله ﷺ قال: ” الصلح جائزٌ بین المسلمین إلا صلحًا حرّم حلالا أو أحلّ حرامًا، والمسلمون علی شروطهم إلا شرطًا حرّم حلالا أو أحلّ حرامًا “۔(۲۵۱/۱، کتاب الأحکام، باب ما ذکر عن رسول الله ﷺ في الصلح بین الناس، رقم الحدیث:۱۳۵۲)

(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ :۴۲۱۳۱)

اوپر تک سکرول کریں۔