مسئلہ:
آج کل مواشی رکھنے والوں نے بھینس کا دودھ نکالنے کی ایک تدبیر یہ نکالی ہے کہ جو بھینس دودھ نہ دے ، اور دوچار گھنٹے اس کے نیچے بیٹھے رہیں، لیکن وہ لات مارتی ہے ، تو میڈیکل اسٹور سے ایک دوا کی چھوٹی شیشی خرید کر سِرنج میں بھر کر بھینس کو لگاتے ہیں، جس سے بھینس اپنا پورا دودھ تھنوں میں اتار لیتی ہے، جس سے آسانی سے دودھ نکالا جاتا ہے، دودھ نکالنے کی یہ صورت شرعاً جائز ہے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے حیوانات کو انسان کے نفع کے لیے پیدا فرمایا(۱)، اس لیے اس سے انتفاع میں ان کو کچھ تکلیف بھی ہو، تو کوئی حرج نہیں(۲)، اسی لیے گوشت کی بہتری کی غرض سے حیوان کا خصی کرنا بالاتفاق جائز ہے، آپ ﷺ نے خصی دنبوں کی قربانی کی ہے(۳)، جب کہ خصی کرنے کی تکلیف انجکشن لگانے سے بہت زیادہ ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” القرآن ا لکریم “ : ﴿والأنعام خلقها لکم فیها دفء ومنافع ومنها تأکلون﴾۔ (سورة النحل: ۵)
(۲) ما في ” مرقاة المفاتیح “ : وقد قال علماوٴنا: وکره السلخ قبل أن تبرد، وکل تعذیب بلا فائدة لهذا الحدیث۔
(۱۴/۸، کتاب الصید والذبائح، الفصل الأول، تحت رقم الحدیث: ۴۰۷۳)
ما في ” تبیین الحقائق “ : والأصل أن إیصال الألم إلی الحیوان لا یجوز شرعًا إلا لمصالح تعود علیه۔
(۴۶۵/۷، کتاب الخنثی، مسائل شتی، کذا في البحر الرائق:۳۵۹/۹، کتاب الخنثی، مسائل شتی)
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : وکره کل تعذیب بلا فائدة۔ (۳۵۸/۹، کتاب الذبائح)
(۳) ما في ” البحر الرائق “ : قال رحمه الله: (وخصی البهائم) یعني یجوز لأنه علیه الصلاة والسلام ضحی بکبشین أملحین موجوأین، والموجوء هو الخصی، ولأن لحمه یطیب به ویترک النکاح فکان حسنًا ۔۔۔۔ ان البهائم کانت تکثر في زمنه ﷺ فتکوی بالنار لأجل المنفعة للمالک، فکذا یجوز هذا الفعل (الخصی) لتعود المنفعة للمالک ۔۔۔۔ وفي المحیط: ان الأصل إیصال الألم إلی الحیوان لمصلحة تعود إلی الحیوان یجوز۔ (۳۷۴/۸۔۳۷۵، کتاب الکراهیة، فصل في البیع)
ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : وجاز خصاء البهائم ۔۔۔ وقیدوه بالمنفعة وإلا فحرام ۔ تنویر مع الدر ۔ قال الشامي رحمه الله: قوله: (قیدوه) أي جواز البهائم بالمنفعة وهي إرادة سمنها أو منعها عن العض۔(۴۷۴/۹، کتاب الحظر والإباحة فصل في البیع)
(احسن الفتاویٰ:۲۲۴/۸)
