دورانِ حمل اَلٹرا ساوٴنڈ (Ultra Sound)کروانا

مسئلہ:

بعض مرتبہ طبی اغراض کے پیش نظر عورت دورانِ حمل اَلٹرا ساوٴنڈ (Ultra Sound) کرواتی ہے، جس کے ذریعہ جہاں دیگر طبی امور کی تفتیش وتشخیص مطلوب ہوتی ہے، وہیں پیدا ہونے والا بچہ لڑکا ہے یا لڑکی یہ بھی معلوم کیا جاسکتا ہے، ایسے موقع پر عورت کا یہ دریافت کرنا کہ حمل لڑکا ہے یا لڑکی؟ اسی طرح معالج کا اس استفسار کا جواب دینا ، گرچہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے(۱)، مگر یہ عمل فضول ہونے کے ساتھ ساتھ بسا اوقات میاں بیوی میں اختلاف ونزاع کا سبب بن کر علیحدگی تک کے واقعات دیکھنے اور سننے میں آتے ہیں، نیز کئی ایک واقعات میں خلافِ توقع نتیجہ سامنے آنے کی بناء پر لڑکی ذہنی ٹینشن کی وجہ سے بچہ کی پیدائش کے دوران اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتی ہے ، یا پھر حمل کے ضائع ہونے کا شدید اندیشہ ہوجاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ حکومتِ وقت نے بھی اس طرح کی جانچ پر پابندی لگا رکھی ہے، جس میں یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ حمل لڑکا ہے یا لڑکی؟ بہر کیف اس لایعنی حرکت سے احتراز ہی بہتر ہے۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” قواعد الفقه “ : ” ألاصل في الأشیاء الإباحة “ ۔(ص:۵۹، رقم المادة:۳۳)

(۲) ما في ” الشامیة “ : ما کان سبباً لمحظور فهو محظور۔ (۲۲۳/۵، مکتبه نعمانیه، اعلام الموقعین:۱۷۵/۳، فصل في سد الذرائع)

(فتاویٰ بنوریه، رقم الفتویٰ: ۱۰۱۴۸)

اوپر تک سکرول کریں۔