مسئلہ:
اگر بچہ دورانِ ولادت انتقال کرجائے ، تو اس پر نمازِ جنازہ کے سلسلے میں حضراتِ فقہاء کرام نے یہ تفصیل ذکر کی ہے کہ اگر بچہ کے بدن کا اکثر حصہ یعنی سَر کی طرف سے پیدا ہونے کی صورت میں سینے تک، اور پیر کی طرف سے پیدا ہونے کی صورت میں ناف تک، باہر آنے تک اس میں آثارِ حیات باقی ہوں ، تو یہ بچہ زندہ شمار ہوگا، او رمسنون طریقے سے اس کی تجہیز وتکفین کے بعد اس پر نمازِ جنازہ پڑھ کر اسے دفن کیا جائے گا، اور اگر اکثر حصہ نکلنے سے پہلے ہی وہ مرجائے ، تو اسے مردہ شمار کیا جائے گا، اور اس کو دھوکر پاک کپڑے میں لپیٹ کر بلا نمازِ جنازہ کے دفن کردیا جائے گا، البتہ نام دونوں صورتوں میں رکھا جائے گا۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : (ومن ولد فمات یغسل ویصلی علیه) ویرث ویورث ویسمی (إن استهل) بالبناء للفاعل: أي وجد منه ما یدل علی حیاته بعد خروج أکثره، حتی لو خرج رأسه فقط وهو یصیح فذبحه رجل فعلیه الغرّة، وإن قطع أذنه فخرج حیًا فمات فعلیه الدیة (وإلا) یستهل (غسل وسمی) عند الثاني، وهو الأصح ، فیفتی به علی خلاف ظاهر الروایة إکراماً لبني آدم کما في ملتقی البحار ۔ وفي النهر عن الظهیریة: وإذا استبان بعض خلقه غسل وحشر هو المختار (وأدرج في خرقة ودفن ولم یصلّ علیه) ۔
(۱۲۹/۳-۱۳۱ ، کتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، بیروت، البحر الرائق: ۳۳۰/۲، کتاب الجنائز، فصل السلطان أحق بصلوته)
ما في ” المحیط البرهاني “ : وإذا مات المولود في حال ولادته وإن کان خرج أکثره صلی علیه، وإن کان أقل لم یصل علیه، لأن للأکثر حکم الجمیع، فإذا مات بعد ما خرج أکثره فکأنه مات بعد الولادة، وإذا مات بعد ما خرج الأقل منه فکأنه مات في البطن۔
(۳۱۵/۲ ، کتاب الصلاة، الفصل الثاني والثلاثون في الجنائز، القسم الثالث في بیان من علیه ومن لا یصلی علیه، الفتاوی الهندیة:۱۶۳/۱، کتاب الصلاة، الباب الحادي والعشرون في الجنائز، الفصل الخامس، بدائع الصنائع:۳۳۷/۲، فصل في بیان من یصلی علیه)
