دوستی یا دشمنی کا معیار شریعت کی روشنی میں

مسئلہ:

اللہ تعالی نے انسان کویہ صلا حیت بخشی کہ انسانوں کے ساتھ سچے رشتے قائم کرے اور وہ رشتے جو خون کے نہیں ہو تے ان میں دوستی کا رشتہ سب سے پاکیزہ، مضبوط اور خوبصورت ہو تا ہے ۔

اچھے لوگوں کی دوستی نہ صرف دنیا میں بلکہ آخرت میں بھی مفید ہو تی ہے اور بروں کی دوستی نہ صرف دنیا میں مضر بلکہ آخرت میں بھی باعثِ حسرت و ندامت ہوگی، آدمی قدرتی طور پر اپنے ہم نشین کی عاد ت و اخلاق کو اور اعمال سے متاثر ہو تاہے، اس لیے اللہ رب العزت اور رسول اللہ ا نے اچھے دوستوں کو اختیار کر نے کا حکم فرمایا ہے ۔

الجحة علی ما قلنا

ما في ’’  القرآن الکریم  ‘‘ : {یآیھا الذین آمنوا اتقوا الله وکونوا مع الصٰدقین} ۔ (سورة التوبة :۱۱۹)

ما في ’’ صفوة التفاسیر‘‘  تحت ھذه الآیة : أي راقبوا الله في جمیع أقوالکم وأفعالکم وکانوا مع أھل الصدق والیقین الذین صدقوا في الدنیا نیة وقولاً وعملاً۔(۵۲۸/۱)

وقال تعالی :{ویوم یعض الظالم علی یدیه یقول یٰلیتني لم أتخذ فلاناً خلیلاً} ۔ (سورة الفرقان :۲۸)

ما في ’’ التفسیر الکبیر ‘‘ : فیه إشارة إلی خلیله سماه شیطاناً لأنه أضله کما یضل الشیطٰن ثم خذله ولم ینفعه في العاقبة ۔ (۴۵۵/۸)

وقال تعالی : {الأخلاء یومئذ بعضھم لبعض عدو إلا المتقین} ۔ (سورة الزخرف :۶۸)

ما في ’’ التفسیر الکبیر‘‘ : والمعنی الأخلاء في الدنیا یومئذ یعني في الآخرة بعضھم لبعض عدو یعني أن الخلة إذا کانت علی المعصیة والکفر صارت عداوة یوم القیٰمة ۔(إلا المتقین) یعني الموحدین الذین یخالل بعضھم بعضاً علی الإیمان والتقوی ۔ (۶۴۱/۹)

ما في ’’السنن لأبي داود‘‘ : ’’ الرجل علی دین خلیله فلینظر أحدکم من یخالل ‘‘۔(ص:۶۶۴،کتاب الأدب ، باب من یؤمر أن یجالس)

اوپر تک سکرول کریں۔