مسئلہ:
دوستی یا دشمنی کے حقدار ہو نے کے اعتبار سے لوگوں کی تین قسمیں ہیں:
(۱) وہ لوگ جوایسی خالص محبت اور دوستی کے حقدار ہیں کہ جن میں عداوت ونفرت کا کوئی حصہ شامل نہ ہو ۔
(۲) وہ لوگ جوایسی عداوت وبغض کے حقدار ہیں جن میں دوستی ومحبت کا کوئی عنصر شامل نہ ہو۔
(۳) وہ لوگ جو بعض وجوہات کی بنا ء پر محبت کئے جانے اور بعض وجوہات کے اعتبارسے نفرت وعداوت کے حقدار ہیں۔
پہلی قسم میں خالص مؤمنین جن میں سرِفہرست حضراتِ انبیاء کرام علیہم السلام پھر صدیقین پھر شہداء اور صالحین داخل ہیں۔
دوسری قسم میں کفار، مشرکین ،منافقین اور ملحدین داخل ہیں۔
تیسری قسم میں وہ مؤمنین داخل ہیں جن میں کچھ نافرمانیاں پائی جاتی ہیں لیکن عقیدہ صحیح ہے، یہ لوگ دولتِ ایمان کی وجہ سے محبت کئے جانے او ربعض نافرمانیوں کی وجہ سے ناراضگی کے مستحق ہیں۔
الحجة علی ما قلنا
ما في ’’ القرآن الکریم ‘‘ :{والذین جاء وا من بعدهم یقولون ربنا اغفرلنا ولإخواننا الذین سبقونا بالإیمان ولا تجعل في قلوبنا غلاً للذین آمنوا} ۔ (سورة الحشر:۱۰)
ما في ’’ الجامع لأحکام القرآن للقرطبي ‘‘ : هذه الآیة دلیل علی وجوب محبة الصحابة ۔(۳۲/۱۸)
ما في ’’سنن الترمذي‘‘ : عن أبي سعید الخدري رضي الله عنه : ’’ ولا تصاحب إلا مؤمناً ولا یأکل طعامک إلا تقي ‘‘۔(۶۵/۲،کتاب الزهد ، باب في صحبة المؤمن)
ما في ’’ بذل المجهود ‘‘ : ولا تصاحب إلا مؤمناً أي کامل الإیمان فینفعک صحبة في الدینا والآخرة ۔ (۲۵۴/۱۳)
وما فی ’’ القرآن الکریم ‘‘: {لا تجد قوماً یؤمنون بالله والیوم الآخر یوادون من حاد الله ورسوله} ۔ (سورة المجادلة :۲۲)
ما في ’’ الزواجر عن اقتراف الکبائر ‘‘ : الشرک أخفی من دبیب النمل علی الصفا في اللیلة الظلماء وأدناه أن یحب علی شيء من الجور ویبغض علی شيء من العدل وھل الدین إلا الحب في الله والبغض في الله ۔ (۲۱۲/۱)
