دوسرے سے امتحان دلواکر سرٹیفکٹ(Certificate)اور ملازمت(Job)حاصل کرنا

(فتویٰ نمبر: ۲۰۴)

سوال:

زید نے بکر کی جگہ کالج(College) میں امتحان دیا اور پاس بھی ہوگیا، جس کی بنا پر بکر کو سرٹیفکٹ(Certificate) دیا گیا،اسی سرٹیفکٹ کی بنیاد پر بکر کو سرکاری نوکری بھی مل چکی ہے، تو کیا اس طرح اپنی سیٹ پر دوسرے کو بٹھا کر امتحان دلوانا،سرٹیفیکٹ حاصل کرنا،اور اس سرٹیفکٹ سے نوکری حاصل کرنا شرعاً درست ہے یا نہیں؟

 نیز اس طریقے پر لگی ہوئی نوکری(Job) کی آمدنی کی شرعی حیثیت بھی واضح کریں کہ وہ حلال ہے یا حرام؟اور اس کا استعمال جائز ہے یا ناجائز؟

الجواب وباللہ التوفیق:

اس طرح نوکری (Job)حاصل کرنا شرعاً درست نہیں ہے،کیوں کہ اس میں دھوکہ دہی، جھوٹ وخیانت اور حکومتِ وقت کے قوانین کی خلاف ورزی لازم آتی ہے، جو شرعاً ناجائز ہے(۱)،اور آدمی جب کسی حکومت کے ماتحت رہتا ہے، تو اس کے قانون کی پابندی اس پر لازم ہوتی ہے، اس کے خلاف کرنا قانونی چوری ہے، جس سے عزت ومال دونوں کا خطرہ ہوتا ہے،جب کہ انسان کو ان کی حفاظت کا مکلف کیا گیا ہے(۲)، لیکن تنخواہ چوں کہ ڈگری (Degree)کی نہیں بلکہ کام کی دی جاتی ہے؛ لہٰذا شخصِ مذکور اگر اس مفوضہ ڈیوٹی (Duty) کا اہل ہے، تو تنخواہ حلال ہے ورنہ نہیں، البتہ جھوٹ وخیانت اور دھوکہ دہی کی وجہ سے شدید گنہگار ہوگا۔

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿وَلا تُلْقُوْا بِأَیْدِیْکُمْ إِلَی التَّهلُکَةِ﴾ ۔ (سورة البقرة : ۱۹۵)

ما في ” جامع الترمذي “ : ” من غش فلیس منا “ ۔ وکذا في الصحیح لمسلم: ” من غشنا فلیس منا “ ۔ (۲۴۵/۱ ، صحیح مسلم : ۷۰/۱)

ما في ” مشکوة المصابیح “ :”لا إیمان لمن لا أمانة له، ولا دین لمن لا عهد له “۔ (ص/۱۵)

ما في ” الصحیح لمسلم “ : وقال : ” من علامات المنافق ثلاث : إذا حدث کذب ، وإذا وعد أخلف ، وإذا اوٴتمن خان ، وقال : آیة المنافق ثلاث ، وإن صام وصلی، وزعم أنه مسلم ۔ (۵۶/۱)

(۲)ما في ” الموافقات للشاطبي “:ومجموع الضروریات خمسة:وهي حفظ الدین والنفس والنسل والمال والعقل۔(۳۲۶/۲)(کتاب الفتاویٰ:۳۹۳/۵،فتاویٰ حقانیه:۲۴۷/۶)فقط

والله أعلم باالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۳۰/۴/۱۵ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔