مسئلہ:
دوسرے کی طر ف سے واجب قربانی کی اجازت لینا ضروری ہے، ور نہ دوسرے کی واجب قربانی ادانہ ہو گی، اگر کسی علاقے میں اپنے متعلقین کی طر ف سے قربانی کرنے کی عادت اور رواج ہو تو اپنے متعلقین کی طر ف سے انکی اجازت کے بغیر واجب قربانی درست ہو جائیگی۔
الحجة علی ما قلنا
ما في ’’ بدائع الصنائع‘‘: ومنھا إذن صاحب الأضحیة بالذبح إما نصاً أو دلالة إذا کان الذابح غیره، فإن لم یوجد لا یجوز لأن الأصل فیما یعمله الإنسان أن یقع للعامل وإنما یقع لغیره بإذنه فإذا لم یوجد لا یقع له ۔ (۲۱۱/۴، کتاب الأضحیة، البحرالرائق : ۳۲۶/۸ ،کتاب الأضحیة)
ما في ’’ الدر المختار مع الشامیة ‘‘: قال في الذخیرة : ولعله ذھب إلی أن العادة إذا جرت من الأب في کل سنة صار کالإذن منھم ۔ (۳۸۲/۹ ، کتا ب الأضحیة)
ما في ’’الأشباه والنظائر‘‘: بقاعدة فقهیة: ’’ إنما تعتبر العادة إذا اطردت أو غلبت‘‘۔ ’’ العادة محکمة ‘‘۔ (ص:۳۳۳)
