مسئلہ:
دلہن سے نکاح کی اجازت لینے کے وقت گواہوں کا موجود ہونا ضروری نہیں ہے، بہتر ہے، البتہ ایجاب وقبول یعنی جب عورت کا وکیل یا ولی اپنی موٴکلہ یا مولّیہ کا نکاح کرارہا ہو، اُس وقت گواہوں کا موجود ہونا ضروری ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” الشامیة “ : واعلم أنه لا یشترط الشهادة علی الوکالة بالنکاح بل علی عقد الوکیل، وإنما ینبغي أن یشهد علی الوکالة إذا خیف جحدا الموکل إیاها ۔ فتح ۔
(۱۰۶/۴، کتاب النکاح، مطلب في الوکیل والفضولي في النکاح، فتح القدیر:۳۰۱/۳، کتاب النکاح، فصل في الوکالة بالنکاح وغیرها)
ما في ” البحر الرائق “ : لا یشترط الإشهاد علی التوکیل ویشترط علی القول الثاني کما لا یخفی۔ (۱۴۶/۳، کتاب النکاح)
ما في ” بدائع الصنائع “ : وأما بیان وقت هذه الشهادة وهي حضور الشهود، فوقتها وقت وجود رکن العقد، وهو الإیجاب والقبول لا وقت وجود الإجازة۔
(۴۰۵/۳، کتاب النکاح، فصل في بیان وقت الشهادة)
(فتاویٰ رحیمیہ: ۱۲۷/۸)
