(فتویٰ نمبر: ۲۸)
سوال:
۱– ایک شخص جس کے دو لڑکے اور چار لڑکیاں ہیں، اس کی عورت کا انتقال ہوگیا ہے، اس شخص نے اپنی زندگی میں ایک قیمتی زمین فروخت کی، اور اس زمین اور دوسری ملکیت کا انتظام اس کے دونوں لڑکوں میں سے چھوٹا لڑکا کرتا تھا، اس شخص نے اپنی زندگی میں اپنے چھوٹے لڑکے کو زبانی حکم دیاتھا کہ فروخت شدہ زمین کے جو پیسے آئیں اس کے برابر سات حصے کریں، اور میرے ساتھ ہر ایک کو برابربرابر تقسیم کریں، باپ کے اس زبانی حکم کے مطابق اس نے زمین کی پہلی دو قسطوں کے جو پیسے آئے ان کے سات حصے کیے، ایک حصہ باپ کا،دو حصے لڑکوں کے اور چارحصے لڑکیوں کے۔
۲– اس کے بعد باپ کا انتقال ہوگیا،تو چھوٹے لڑکے نے کہا کہ اب مذہبِ اسلام کے مطابق لڑکوں کے دو حصے اور لڑکیوں کا ایک حصہ ہوگا، اس کے علاوہ میت نے ترکہ میں بہت سا بیلنس (Balance)، جواہرات اور مکانات بھی چھوڑے ہیں، تو ان کا کیاحکم ہوگا؟
خلاصہ-: باپ نے اپنی زندگی میں چھوٹے لڑکے کو جو زبانی حکم دیا تھا، کیا وہ حکم مرنے کے بعد بھی باقی رہے گا؟ اور کیا یہی حکم میت کی دوسری ملکیت میں بھی چلے گا؟
الجواب وباللہ التوفیق:
مسئلہٴ اُولیٰ میں میت زوجہ کے کل پس ماندگان میں زوج، دوبیٹے اور چار بیٹیاں موجود ہیں، میت کے ترکہ کے کل ۳۲/ حصے کیے جائیں گے، جن میں سے ۸/ حصے شوہر کو(۱) اور دو بیٹوں میں سے ہر ایک کو ۶، ۶/ حصے اور چار بیٹیوں میں سے ہر ایک کو ۳، ۳/ حصے از روئے شرع دیئے جائیں گے۔(۲)
مسئلہٴ ثانیہ میں میت (باپ) کے کل پس ماندگان میں دو بیٹے اور چار بیٹیاں موجود ہیں، میت کا کل ترکہ آٹھ حصوں پر منقسم ہوکر اس میں سے دو دو حصے دونوں بیٹوں کو اور ایک ایک حصہ چاروں بیٹیوں کو ملے گا۔(۳)
نوٹ-: باپ نے جو بہت سارا بینک بیلنس (Bank Balance) ، جواہرات اورمکانات وغیرہ چھوڑے ہیں، وہ اس کے مرتے ہی ترکہ میں شامل ہوجائیں گے، اور مذکورہ بالا حصص کے مطابق وارثین میں تقسیم ہوں گے، نیز باپ نے اپنی زندگی میں جو حکم دیا تھا اب اس کی موت کے بعد اس حکم کا کوئی اعتبار نہ ہوگا،حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشا د ہے :
” اللہ تعالیٰ نے ہر صاحبِ حق کو اس کا حق عطا کردیا؛ اس لیے اب وارث کے لیے کسی قسم کی کوئی وصیت درست نہیں ہوگی۔ “(۴)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿فَإِنْ کَانَ لَهنَّ وَلَدٌ فَلَکُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِیَّةٍ﴾ ۔ (سورة النساء : ۱۲)
(۲/۳) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿ْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ﴾ ۔ (سورة النساء : ۱۱)
ما في ” السراجي في المیراث “ : ومع الإبن للذکر مثل حظ الأنثیین وهو یعصبهن۔ (ص/۱۲)
(۴) ما في ” السنن لأبي داود “ : ” إن اللّٰه قد أعطی کل ذي حق حقه ، فلا وصیة لوارث “۔(ص/۳۹۶) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۹/۲/۲۷ھ
