مسئلہ:
اگر کوئی تجارتی تعمیری کمپنی لوگوں سے نقد رقم مضاربت کے طور پر اس شرط کے ساتھ لیتی ہے کہ وہ اس رقم کو دو سال کے عرصہ میں دوگنی کرکے دے گی، تو اس کا یہ معاملہ شرعاً جائز نہیں ہے، کیوں کہ مضاربت کی ہر ایسی صورت جس میں نفع کی مقدار متعین کردی جائے اور نقصان کا خطرہ قبول نہ کیا جائے جائز نہیں ہے، بلکہ یہ سود ہے،(۲) کیوں کہ شریعت نے استحقاق نفع کی بنیاد رسک (Risk)یعنی ضمان پر رکھی ہے ۔(۱)
البتہ اس معاملے کی جائز صورت یہ ہوسکتی ہے کہ نفع کی قطعی مقدار کے بجائے اس کا تناسب متعین کردیا جائے، مثلاً یہ کہا جائے کہ تمہارے اس سرمایہ پر جو نفع آئے گا اس کا پچاس فیصد میں تمہیں دوں گا، اب مضارب کی یہ ذمہ داری ہوگی کہ دو سال بعد حساب کرے اور پچاس فیصد کے لحاظ سے جو رقم آئے اسے ادا کرے، خواہ یہ رقم دوگنی ہو ،یا اس سے زیادہ، یا اس سے کم ۔(۳)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما فی ” الفقه الحنفی فی ثوبه الجدید“: سئل سیدی الشیخ محمد الحامدي عن إیداع نقود فی البنک علی شکل شرکة المضاربة، بحیث تبقی هذه النقود عدّة سنوات، ویدفع له فی نهایة کل سنة خمسة فی المائد مثلاً علی أنه من ربح هذه النقود، فأجاب رحمه الله: شرکة المضاربة هی أن یکون المال من جانب، والعمل من جانب آخر، والربح بینهما علی ما یشترطان، وإن أصیبت التجارة بخسارة کان علی رب المال أن یتحملها وحده، ولا یجوز تحمیل العامل شیئاً منها، فإن کان هذا مشروطاً فسدت هذه الشرکة ووجب فسخها، وإن کان ربحاً فیها فکله لرب المال، وللعامل علیه أجر مثله، والذی وقع السوٴال عنه لیس من شرکة المضاربة فی شيء، بل إنه محض قرض جر نفعاً وهو ربا صریح۔(۹۰/۵، المضاربة، حکم إیداع نقود فی البنک علی شکل شرکة مضاربة)
(۲) ما فی ” قواعد الفقه “ : الخراج بالضمان۔ (ص:۸۰، رقم القاعدة:۱۲۹)
(۳) ما فی” بدائع الصنائع “:لو قال : خذ هذه الألف علی أن لک نصف الربح أو ثلاثة فالمضاربة جائزة قیاساً واستحساناً ، وللمضارب ما شرط وما بقی فلرب المال۔
(۱۱۰/۵۔۱۱۱، کتاب المضاربة)
