(فتویٰ نمبر: ۶۹)
سوال:
ایک صاحب وفات سے پہلے یہ وصیت کر گئے ہیں کہ جب میری موت ہوجائے، تو مجھے اپنی مملوکہ زمین ہی میں دفن کرنا، غور طلب امر یہ ہے کہ آیا مرحوم کی اس وصیت پر عمل کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ یعنی انہیں ان کی وصیت کے مطابق ان کی مملوکہ زمین میں دفن کرسکتے ہیں یانہیں؟
الجواب وباللہ التوفیق:
مرحوم کی مذکورہ وصیت کہ مجھے میری ہی زمین میں دفن کیا جائے، خلافِ شرع ہونے کی وجہ سے باطل ہے،اس پر عمل نہیں کیا جائے گا، بلکہ انہیں عام مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیاجائے گا۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : ولا ینبغي أن یدفن المیت في الدار ولو کان صغیرًا لاختصاص هذه السنة بالأنبیاء۔ (در مختار) ۔ وفي الشامیة : قوله : (في الدار) کذا في الحلیة عن منیة المفتي وغیرھا، وهو أعم من قول الفتح، ولا یدفن صغیر ولا کبیر في البیت الذي مات فیه، فإن ذلک خاص بالأنبیاء بل ینقل إلی مقابر المسلمین، ومقتضاه أنه لا یدفن في مدفن خاص کما یفعله من یبني مدرسة ونحوها، ویبني له بقربها مدفنا۔ تأمل۔
(۱۴۰/۳، کتاب الصلاة ، با ب صلاة الجنازة، مطلب في دفن المیت، ط : بیروت)
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : وینبغي أن یکون القول ببطلان الوصیة بالتطیین مبنیًا علی القول بالکراهة؛ لأنها حینئذ وصیة بالمکروه، قاله المصنف ۔ (در مختار) ۔
(۳۹۵/۱۰ ، کتاب الوصایا، باب العتق في المرض، قبیل باب الوصیة بالخدمة)
(امداد الفتاویٰ:۴/ ۳۲۹، أحسن الفتاویٰ: ۲۱۵/۴) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد : محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۹/۴/۱۹ھ
الجواب صحیح: عبد القیوم اشاعتی ۔۱۴۲۹/۴/۱۹ھ
