مسئلہ:
آج کل راشن دکان پر راشن کارڈ والوں کو شکر، ڈالڈا، اور دیگر اشیاء ملتی ہیں، لوگ انہیں اپنے کارڈ پر حاصل کرکے بلیک دام میں، جو عموماً زیادہ ہوتے ہیں، فروخت کرتے ہیں، ان کا یہ عمل شرعاً درست ہے،(۱) کیوں کہ راشن کارڈ کے ذریعہ خرید کر آدمی مالک ہوجاتا ہے، اور مالک کو اپنی چیز فروخت کرنے کا حق ہے، جس قیمت پر چاہے فروخت کرے، لیکن اس کا لحاظ ضروری ہے کہ اگر یہ خلاف قانون ہے، تو پھرعزت اور مال کا خطرہ ہے، نفع کی خاطر عزت اور مال کو خطرہ میں ڈالنا دانشمندی کی بات نہیں ہے۔(۲)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما فی ” التفسیر للبیضاوی “ : المالک هو المتصرف فی الأعیان المملوکة کیف شاء من الملک۔ (ص:۷، تحت تفسیر سورة الفاتحة)
ما فی ” شرح المجلة “ : کل یتصرف فی ملکه کیف ما شاء۔ (ص:۶۵۴، المادة: ۱۱۹۲، الباب الثالث فی المسائل المتعلقة بالحیطان، الفصل الأول فی أحکام الأملاک)
(۲) ما فی ” السنن للترمذي “ : ” لا ینبغی للمؤمن أن یذل نفسه “۔ (۵۰/۲، أبواب الفتن)
(فتاوی محمودیه:۱۵۹/۲۴، مکتبه محمودیه میرٹھ)
