رحمِ مادر کو کرایہ پر دینے کا حکمِ شرعی

مسئلہ:

اصول وضوابط کی بے قاعد گیوں ، سست طبی نگہداشت اور معاشی پریشانیوں کے سبب اپنا رحم کرائے پر دینے والی خواتین کی بآسانی دستیابی کی وجہ سے آج ہمارے ملک ہندوستان میں سروگیٹ پریگیننسی یعنی رحمِ مادر کرایہ پر دینے کی تجارت بڑی تیزی سے پھل پھول رہی ہے اور بیرون ہند کے بہت سے لوگ اس تجارت سے فائدہ اٹھا نے کے لئے ہندوستان کا رخ کررہے ہیں ، ہمارے ملک ہندوستان میں رحمِ مادر کو تجارتی مقصدکے لئے کرایہ پر دینے کے جواز کو دوہزار تین( ۲۰۰۳) سے قانونی حیثیت حاصل ہے۔

ہندوستان کے متوسط طبقہ کی خواتین کو کبھی اپنے خاندان کو بہتر معیار زندگی فراہم کرنے کے لیے ، کبھی کار خریدنے کے لیے ، کبھی مکان بنانے کے لیے ، کبھی اپنے گھر کی اندرونی سجاوٹ کے لیے رقم کی ضرورت ہوتی ہے ، وہ مجبور وبے بس ہوتی ہیں تو اپنے رحم کو کسی اور مرد کے نطفہ کی نشو ونما کے لیے اپنے رحم کو کرایہ پر دیکر اس سے رقم حاصل کرتی ہیں۔

اسلامی نقطۂ نگاہ سے یہ عمل محرماتِ شرعیہ مثلاً جلق دوسرے کے رحم میں اپنا نطفہ ڈالنا، ڈاکٹر کا بلا ضرورت اجنبیہ کے ستر کا دیکھنا ،اختلاطِ نسب، بلا ضرورت برائے معصیت منافع کا اجارہ اور اس طریقہ کے طبائعِ سلیمہ کے مخالف، مزاجِ شرع وشارع سے متصاد م اور انتہائی بے شرمی و بے حمیتی اور حدودِشرع سے تجاوز کی وجہ سے ناجائز وحرام ہے ۔

الحجة علی ما قلنا

ما في ’’ الفقه الإسلامي وأدلته ‘‘: ویحرم الاستمناء لقوله عز وجل {والذین ھم لفروجھم حافظونO إلا علی أزواجھم أو ما ملکت أیمانھم فإنھم غیر ملومین}(سورة المؤمنون :۶۰۵) ولأنھا مباشرة  تفضي إلی قطع النسل فإن فعل عزر ولم یحد لأنھا مباشرة محرمة من غیر إیلاج فأشبھت مباشرة الأجنبیة في ما دون الفرج ۔ (۵۳۴۸/۷)

ما في’’فتح القدیر‘‘:لا یحل الاستمناء بالکف ذکر المشایخ فیه أنه علیه الصلاة  والسلام قال:’’ناکح الید ملعون‘‘۔فإن غلبته الشھوة ففعل إرادة تسکینھا به فالرجاء أن لا یعاقب۔

(۳۳۴/۲، کتاب الصوم ، باب ما یوجب القضاء والکفارة، الدر المختار مع الشامیة : ۳۳۲/۳ ،کتاب الصوم ، مطلب الاستمناء بالکف)

ما في ’’السنن للترمذي‘‘: ’’ من کان یؤمن بالله والیوم  الآخر فلا یسق ماء ه ولد غیره ‘‘۔( ۲۱۴/۱،کتاب النکاح، السنن الکبری للبیھقي: ۱۰۵/۹، رقم الحدیث: ۱۸۰۱۱)

ما في ’’ الموسوعة الفقھیة ‘‘: لا یجوز النظر إلی فرج المرأة إلا إذا کان لایتوصل إلی معرفة ذلک إلا برؤیته بنفسه أما لو کان الطبیب یکتفي برؤیة النساء لفرج المریضة فلا یجوز له النظر إلیه  ۔ (۱۳۷/۱۲)

ما في ’’ النتف للسغدي ‘‘: الإجاره الفاسدة علی أحد عشر وجھاً ؛ أحدھا الإجارة علی المعاصي ولا أجرة علی المعاصي لا المسماة ولا المثل ۔

(ص:۳۴۸، الدر المختار مع الشامیة : ۶۴/۹)

وما في ’’ الھدایة ‘‘:  لا یجوز الاستئجار علی الغناء والنوح وکذا سائر الملاھي لأنه استئجار علی المعصیة والمعصیة لا تستحق بالعقد ۔۔۔۔۔قوله:  لا تستحق بالعقد لأن عقد الإجارة یستحق به تسلیم المعقود علیه شرعاً ولا یجوز أن یستحق علی المرء شيء یکون به عاصیاً شرعاً کیلا یصیر المعصیة مضافة إلی الشرع ۔ (حاشیة الهدایة :۳۰۲/۳

(نظام الفتاوی :۳۳۹/۱)

اوپر تک سکرول کریں۔