”رمضان مبارک“ کہہ کر مبارکباددینا

مسئلہ:

رمَضان المبارک کی آمد پر لوگ ایک دوسرے کو ” رمضان مبارک ، رمضان مبارک “ کہہ کر مبارکبادی دیتے ہیں، اس طرح مبارکبادی دینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، کیوں کہ نبی اکرم ﷺ اِس ماہ کے آنے پر اپنے اصحاب کو خوش خبری دیا کرتے تھے، اُنہیں اِس ماہ میں اعمالِ صالحہ پر اُبھارتے تھے، یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ کی اقتدا میں ہمارے بزرگانِ دین بھی ماہِ رمضان المبارک کی آمد پر ایک دوسرے کو خوش خبری دیا کرتے تھے،نیز اِس ماہ کی آمد پر ایک دوسرے کومبارکبادی دینا، اور اس کی آمد پر خوش ہونا، یہ دونوں باتیں نیک کاموں میں رغبت وشوق پردلالت کرتی ہیں، اِس لیے بھی اِس میں کوئی مضائقہ نہیں۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿قل بفضل الله وبرحمته فبذلک فلیفرحوا هو خیرٌ مما یجمعون﴾۔ (یونس:۵۸)

ما في ” صحیح ابن خزیمة “ : عن سلمان قال: خطبنا رسول الله ﷺ في آخر یوم من شعبان فقال: ” أیها الناس! قد أظلّکم شهرٌ عظیمٌ، شهرٌ مبارکٌ “۔۔ الحدیث۔

(۱۹۱/۳، رقم الحدیث:۱۸۸۷، باب فضائل شهر رمضان إن صحّ الخبر، الدعوات الکبیر للبیهقي:۱۵۱/۲، رقم الحدیث:۵۳۲، شعب الإیمان للبیهقي: ۲۲۳/۵، رقم الحدیث:۳۳۳۶، فضائل شهر رمضان، عمدة القاري: ۲۶۱/۱۶، باب هل یقال رمضان أو شهر رمضان، مشکوة المصابیح:۴۴۳/۱، کتاب الصوم، رقم الحدیث: ۱۹۶۵)

ما في ” تفسیر السعدي المعروف ب تیسر الکریم الرحمن في تفسیر کلام المنان “ : الفرح الممدوح الذي قال الله فیه: ﴿قل بفضل الله وبرحمته فبذلک فلیفرحوا﴾۔ وهو الفرح بالعلم النافع، والعمل الصالح۔ (۷۴۲/۱، الباب:۶۹، للشیخ عبد الرحمن بن ناصر السعدي)

اوپر تک سکرول کریں۔