روزے کی حالت میں لفافہ کی گوند زبان سے چاٹنا

مسئلہ:

روزے کی حالت میں لفافے کی گوند کو اپنی زبان سے تر کرنا مکروہ ہے، کیوں کہ گوند میں ذائقہ ہوتا ہے، اور روزے کی حالت میں کسی بھی چیز کے ذائقے کو چکھنا مکروہ ہے، البتہ اگر انگلی میں تھوک لیکر اس سے گوند کو تر کرے تو کوئی حرج نہیں ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” المحیط البرهانی “ : قال فی ” الأصل “: ویکره للصائم أن یذوق شیئاً بلسانه۔(۵۶۳/۲، کتاب الصوم، الفصل السادس فیما یکره للصائم)

ما فی ” البنایة شرح الهدایة “ : من ذاق شیئاً بفمه لم یفطره لعدم الفطر (صورةً ومعنیً) أما صورة فلأنه لم یصل إلی الجوف شيء من المنفذ المعهود، وأما معنی فلأنه لم یصل إلی البدن ما یصلحه (ویکره له) أی للصائم (ذلک) أی ذوق الشيء بالفم (لما فیه) أی لما فیه من تعریض الصوم علی الفساد، لأنه لا یوٴمن أن یصل إلی جوفه۔

(۲۷۵/۲، کتاب الصوم، باب ما یوجب القضاء والکفارة، فتاوی قاضی خان علی هامش الفتاوی الهندیة: ۲۰۴/۱، الفصل الرابع فیما یکره، الدر المختارمع الشامیة: ۳۵۲/۳، مطلب فیما یکره للصائم)

(کتاب الفتاوی: ۴۰۱/۳)

اوپر تک سکرول کریں۔