روضہٴ اقدس کے ڈیزائن کا گنبد بنوانا

مسئلہ:

بعض ذمہ داران واہلیان مساجد اپنی مسجدوں میں روضہٴ اقدس کے ڈیزائن کا گنبد بنواتے ہیں، اگر ان کا مقصد تلبیس وفریب ہے کہ اس مسجد کولوگ مسجد نبوی سمجھیں ، اور اس کے ساتھ وہی عقیدت رکھیں، تو ان کا یہ عمل ناجائز ہے،(۱)ورنہ نہیں۔

اسی طرح بعض ذمہ داران مسجد وقبرستان، اپنی مسجد وقبرستان کا نام مسجد نبوی اور جنت البقیع رکھتے ہیں، اگر ان کا مقصد تلبیس وفریب نہیں بلکہ محض تبرک کے طور پر یا تشویق کیلئے ہے کہ اس کو دیکھ کر روضہٴ اقدس کا شوق پیدا ہو تو درست ہے،(۲) ورنہ نہیں ۔

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما فی ” الصحیح لمسلم “ : عن أبی هریرة رضی الله تعالی عنه قال: ۔۔۔۔۔۔۔ ” من غشنا فلیس منا “۔(۷۰/۱، کتاب الإیمان، باب قول النبی ﷺ من غشنا فلیس منا)

(۲) ما فی ” الأشباه والنظائر “ : الأمور بمقاصدها۔ (۱۱۳/۱)

 (فتاوی محمودیه: ۳۱۶/۲۲)

اوپر تک سکرول کریں۔