مسئلہ:
اگر کسی شخص کو دورانِ نماز کسی رکن کے ادا کرنے یا ادا نہ کرنے میں شک ہو ،اور وہ ایک رکن ادا کرنے یعنی تین مرتبہ ”سبحان اللہ “پڑھنے کے بقدر سوچتا ہی رہے ،نہ قرأت میں مشغول ہو اور نہ ذکر وتسبیح میں، تو اس صورت میں اس پر سجدہٴ سہو واجب ہوگا،اور اگر سوچنے کے دوران نماز بھی پڑھتا رہا تو سجدہٴ سہو واجب نہیں ہوگا۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” رد المحتار “ : واعلم أنه إذا شغله ذلک الشک فتفکر قدر أداء رکن ولم یشتغل حالة الشک بقراء ة ولا تسبیح وجب علیه سجود السهو في جمیع صور الشک ، سواء عمل بالتحري أو بنی علی الأقل لتأخیر الرکن ۔ الدر المختار ۔
(۵۶۲/۲ ، کتاب الصلاة ، باب سجود السهو ، الفتاوی الهندیة :۱۳۱/۱، ومما یتصل بذلک مسائل الشک والاختلاف الواقع بین الإمام والمأموم ، البحر الرائق :۲/ ۱۸ ، کتاب الصلاة ، باب ما یفسد الصلاة وما یکره فیها)
