رکوع اور سجدہ پر قادر نہ ہونے کی بناء پر اشارے سے نماز

مسئلہ:

اگر کوئی مصلی رکوع اور سجدہ پرقادر نہیں ہے، اور قیام پر قدرت رکھتا ہے تو اس مصلی کیلئے بیٹھ کر اشارے سے نماز پڑھنا افضل ہے، اور کھڑے ہوکر اشارے سے نماز پڑھنا بھی جائز ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : وإن تعذر إلا القیام أومأ قاعداً ۔ الدر المختار ۔

قال الشامی : قال فی البحر: لم أر ما إذا تعذر الرکوع دون السجود غیر واقع، لأنه متی عجز عن الرکوع عجز عن السجود۔ (۴۹۵/۲ ، باب صلوٰة المریض)

ما فی ” الفتاوی التاتارخانیة “ : فإن کان یقدر علی القیام ولا یقدر علی السجود أومی إیماء وهو قاعد، کذا ذکره الشیخ شمس الأئمة الحلوانی والسرخسی، وذکر الشیخ المعروف بخواهرزاده والشیخ الصفار، أنه بالخیار إن شاء صلی قائماً بإیماء وإن شاء صلی قاعداً بإیماء، وهو الأفضل عندنا، وفی الخانیة: والمستحب أن یصلی قاعداً بإیماء۔(۵۸۲/۱، الفصل الحادی والثلاثون فی صلوٰة المریض)

ما فی ” البحر الرائق “ : وإن تعذر الرکوع والسجود لا القیام أومأ قاعداً، لأن رکنیة القیام للتوصل به إلی السجدة لما فیها من نهایة التعظیم، وإذا کان لا یعقبه السجود لا یکون رکناً فیتخیر، والأفضل هو الإیماء قاعداً، لأنه أشبه بالسجود۔(۲۰۵/۲، باب صلوٰة المریض)

اوپر تک سکرول کریں۔