مسئلہ:
نماز کو شروع کرنے کیلئے پوری تکبیر تحریمہ کو بحالتِ قیام ادا کرنا شرط ہے، بسا اوقات لوگ امام کو رکوع کی حالت میں دیکھتے ہیں ،تو رکعت پانے کیلئے دوڑے دوڑے آتے ہیں، اور تکبیر تحریمہ اس طرح کہتے ہیں کہ اس کا بعض حصہ بحالتِ قیام اور بعض حصہ بحالتِ رکوع ادا ہوتا ہے، اس طرح نماز میں شامل ہونا صحیح نہیں ہے، اور نہ ہی ایسے شخص کی نماز درست ہوگی ۔
الحجة علی ما قلنا :
ما فی ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : من فرائضها التی لا تصح بدونها التحریمة قائمًا وهی شرط ۔ (۱۱۲/۲ ، ۱۱۳ ، باب صفة الصلاة)
ما فی ” فتاوی فتاوی قاضیخان علی هامش الهندیة “ : وکذلک لو أدرک الإمام فی الرکوع فقال : ” الله أکبر “ إلا أن قوله : ” الله “ کان فی قیامه ، وقوله : ” أکبر “ فی رکوعه لا یکون شارعًا فی الصلاة ۔
(۸۷/۱ ، باب افتتاح الصلاة ، الفتاوی الهندیة :۶۹/۱ ، الفصل الأول فی فرائض الصلاة ، الدر المختار مع الشامیة :۱۵۷/۲، آداب الصلاة ، فصل ، النهر الفائق : ۲۰۴/۱ ، باب صفة الصلاة)
ما فی” الکافی فی فقه الحنفی “ : من أدرک الإمام راکعًا فأتی بالتحریمة قریبًا من الرکوع لم یصح دخوله فی الصلاة ۔
(۲۴۰/۱ ، شروط الصلاة ، البحر الرائق :۵۰۸/۱ ، باب صفة الصلاة)
(فتاوی محمودیه:۵۴۳/۵، کفایت المفتی:۴۳۰/۳، خیر الفتاوی :۲۸۶/۲)
