(فتویٰ نمبر: ۱۱۱)
سوال:
حال ہی میں ریلائنس موبائل کمپنی (Reliance mobile company) نے ایک اسکیم جاری کی،جس کی تفصیل حسبِ ذیل ہے:
اس میں ہوتا یہ ہے کہ ہر ماہ ایک ہزار روپے بھرے جائیں، اس طرح تین سال تک بھرتے رہیں، تو تین سال میں یہ قیمت چھتیس ہزار (36000)ہوجائے گی، جس کو کمپنی اپنے کاروبار میں لگائے گی، پھر تین سال کے بعد اس میں پیسے نہ بھریں، اورتین سال کے بعد اگر کوئی اپنی جمع کردہ رقم لینا چاہے، تو کمپنی کی طرف سے اسے چھیاسٹھ ہزار(66000) روپے دِیے جائیں گے، اور اگر دس سال کے بعد پیسے لیے جائیں، تو تین لاکھ چھیاسٹھ ہزار (366000)روپے ملیں گے، توکیا اس طرح پیسے جمع کرنا اور لینا جائز ہے؟
الجواب وباللہ التوفیق:
اسکیم کی یہ مذکورہ صورت ناجائز ہے، کیوں کہ اس میں چھتیس ہزار (36000)روپے جمع کرنے پر تین سال گزرنے کے بعد چھیاسٹھ ہزار(66000) روپے،یا دس سال گزرنے کے بعد تین لاکھ چھیاسٹھ(366000) روپے حاصل کرنا عقدِ شرکت نہیں، کیوں کہ عقدِ شرکت میں ہونے والے منافع شرکا کے مابین طے شدہ شرح کے مطابق تقسیم ہوتے ہیں، نہ یہ کہ کسی شریک کے لیے نفع کی ایک خاص مقدار پہلے ہی سے متعین کی جاتی ہے(۱)، کیوں کہ منافع میں یہ احتمال ہے کہ حاصل بھی ہوسکتے ہیں اور نہیں بھی،اور یہ بھی امکان ہے کہ کاروبار خسارے سے دوچار ہو، تواس صورت میں شریک کا اپنے شرحِ منافع کے تناسب سے نقصان میں شریک ہونا لازم ہوتا ہے، جب کہ اس اسکیم میں یہ تمام باتیں نہیں پائی جاتی ہیں، تو یہ محض روپیہ کا روپیہ سے تبادلہ ہے، اور روپیہ کے باہمی تبادلہ میں ضروری ہے کہ ایک طرف کم اور دوسری طرف زیادہ نہ ہو، ورنہ یہ سود ہوگا؛ اس لیے اس اسکیم میں نہ حصہ لینا جائز ہے اور نہ ہی اس سے حاصل ہونے والی زیادتی کا اپنی ذات کے لیے استعمال کرنا جائز ہے۔(۲)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” الهدایة مع الدرایة “ : ولا یجوز الشرکة إذا شرط لأحدهما دراهم مسماة من الربح ؛ لأنه یوجب انقطاع الشرکة ، فعساه لا یخرج إلا قدر المسمی لأحدهما ۔
(۶۱۲/۲ ، کتاب الشرکة)
ما في ” فتح القدیر “ : الربح علی ما شرطا والوضیعة علی قدر المالین ۔ (۱۶۵/۶، کتاب الشرکة)
ما في ” بدائع الصنائع “ : ومنها أن یکو ن الربح جزءً شائعاً في الجملة لا معینًا، فإن عینا عشرة أو مائة أو نحو ذلک کانت الشرکة فاسدة ؛ لأن العقد یقتضي تحقق الشرکة في الربح ، والتعیین یقطع الشرکة لجواز أن یحصل من الربح إلا هذا القدر المعین لأحدهما ، فلا یتحقق الشرکة في الربح ۔
(۵۰۹/۷ ، کتاب الشرکة ، فصل في شروط جواز هذه الأنواع)
(۲) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿أحل اللّٰه البیع وحرم الربوا﴾ ۔ (سورة البقرة : ۲۷۵)
وقوله تعالی : ﴿یا أیها الذین اٰمنوا لا تأکلوا الربوا أضعافًا مضاعفة واتقوا اللّٰه لعلکم تفلحون واتقوا النار التي أعدت للکٰفرین﴾ ۔ (سورة آل عمران : ۱۳۰ ، ۱۳۱)
ما في ” الصحیح لمسلم “ : عن جابر – رضي اللّٰه عنه – قال : ” لعن رسول اللّٰه ﷺ آکل الربوا وموکله، وکاتبه وشاهدیه ، وقال : هم سواء “ ۔
(۲۷/۲ ، کتاب البیوع ، المساقاة والمزارعة ، باب الربوا)
وما في ” مجمع الزوائد “ : عن عبد اللّٰه بن حنظلة – رضي اللّٰه عنه – غسیل الملائکة – قال: قال رسول اللّٰه ﷺ : ” درهم یأکله الرجل وهو یعلم أشد من ستة وثلاثین زَنْیَةً “ ۔ رواه أحمد والطبراني في الکبیر والأوسط ۔ (۱۴۷/۴ ، کتاب البیوع ، باب ما جاء فة الربا ، رقم : ۶۵۷۳) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔ ۱۴۲۹/۷/۱۱ھ
