زندوں کو ایصالِ ثواب کرنا کیسا ہے؟

مسئلہ:

عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ نفل نماز، روزہ، تلاوتِ کلام پاک وغیرہ کا ثواب مُردوں ہی کو ہدیہ کیا جاسکتا ہے، زندوں کو نہیں، جب کہ صحیح بات یہ ہے کہ والدین ، عزیز واقارب اور دوستوں کی زندگی میں بھی انہیں اپنے مذکور نیک اعمال کا ثواب ہدیہ کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” البحر الرائق “ : من صام أو صلی أو تصدّق وجعل ثوابه لغیره من الأموات والأحیاء جاز، ویصل ثوابها إلیهم عند أهل السنة والجماعة ۔ کذا في البدائع ۔ وبهذا علم أنه لا فرق بین أن یکون المجعول له میتًا أو حیًا۔(۱۰۶/۳، کتاب الحج، باب الحج عن الغیر)

(بدائع الصنائع: ۲۷۰/۳، کتاب الحج، فصل في التعرض لنبات الحرم، رد المحتار: ۱۵۲/۳، کتاب الصلاة، مطلب في القراءة للمیت وإهداء ثوابها له، بیروت، ۲۴۳/۲، ط: دارالفکر بیروت)

(فتاویٰ بنوریه، رقم الفتویٰ:۵۸۴۶)

اوپر تک سکرول کریں۔