زوجہ ،دو بیٹے اور نو بیٹیوں کے درمیان تقسیم ترکہ !

(فتویٰ نمبر: ۱۷۳)

سوال:

۱-عبد القادر شیخ کا انتقال ہوا، اس کی دو بیویاں ہیں ،جن میں سے ایک بیوی کا انتقال شوہر سے پہلے ہوچکا ہے، اس سے چار اولاد ہیں، ایک بیٹا اور تین بیٹیاں ، دوسری بیوی (جو حیات ہے)سے سات اولاد ہیں ، جن میں سے ایک بیٹا اورچھ بیٹیاں ہیں، تو اب ان کے ما بین وراثت کس طرح تقسیم ہوگی ؟نیز پراپرٹی 14X25 کی زمین مع عمارت بھی ترکہ میں ہے۔

۲-پہلی بیوی (مرحومہ) بھی وراثت میں شریک ہوگی یا نہیں؟

۳-پراپرٹی کی قیمت سرکاری قیمت سے لگائی جائے گی یا سرکاری قیمت سے زائد قیمتِ فروخت مقرر ہوگی؟ جیسے آج کل پلاٹ یا زمین خریدتے وقت ہوتا ہے۔

۴-فرض کیجئے پراپرٹی کی قیمت۱۰۰/ روپے ہے، تو ہرایک کے حصہ میں کتنے روپے آئیں گے؟

الجواب وباللہ التوفیق:

بعد تقدیمِ ما یقدم علی الارث، صورتِ مسئولہ میں پہلی بیوی جس کا انتقال شوہر کے انتقال سے پہلے ہوچکا ہے، وہ میراث میں حصہ نہیں پائے گی، کیوں کہ میراث کا مستحق وہی قرابت دار ہے، جو مورِث کے انتقال کے وقت با حیات ہو، مورِث یعنی مرحوم عبد القادر شیخ کی کل جائداد وپراپرٹی ۱۰۴/ حصوں میں تقسیم کر کے، ۱۳/تیرہ حصے دوسری بیوی کو جو باحیات ہے(۱)، اور چودہ چودہ حصے دونوں لڑکوں میں سے ہر لڑ کے کو، اور سات سات حصے نو لڑکیوں میں سے ہر لڑکی کو از روئے شرع ملیں گے۔(۲)

پراپرٹی کی قیمت بازاری قیمت (Market Rate)کے اعتبار سے لگائی جائے گی۔

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿فَإِنْ کَانَ لَکُمْ وَلَدٌ فَلَهنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِیَّةٍ تُوْصُوْنَ بِها أَوْ دَیْنٍ﴾ ۔ (سورة النساء : ۱۲)

ما في ” السراجي في المیراث “ : وأما للزوجات فحالتان : ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ والثمن مع الولد وولد الإبن وإن سفل ۔ (ص/۱۲)

(۲) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿لَلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ﴾ ۔ (سورة النساء : ۱۱)

ما في ” السراجي في المیراث “ : مع الابن للذکر مثل حظ الأنثیین ، وهو یعصبهن۔ (ص/۱۲) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۳۰/۲/۲ھ

اوپر تک سکرول کریں۔