زوجہ ایک بیٹی اور چاربیٹوں کے درمیان تقسیمِ ترکہ!

(فتویٰ نمبر: ۱۸۲)

سوال:

۱– کل ترکہ چار لاکھ روپے ہیں، وارثین میں ایک زوجہ ، چار بیٹے اور ایک بیٹی ہے، اس کی تقسیم مع ان کے حصص کے فرمادیں تو عین کرم ہوگا۔

۲– ترکہ مثلاً: چوّن لاکھ روپے کچھ پراپرٹی کی شکل میں ہیں اور کچھ نقد، تو فی الحال صرف نقد کی تقسیم کرنا چاہتے ہیں، بقیہ ترکہ کی تقسیم ابھی نہیں کرنا ہے، تو کیا اشد ضرورت کی وجہ سے اس طرح کرنا شرعاً درست ہے؟

الجواب وباللہ التوفیق:

۱– صورتِ مسئولہ میں یہ چار لاکھ روپے ۷۲/ حصوں میں تقسیم ہوکر ،اس میں سے نو حصے یعنی انتالیس ہزار نو سو ننانوے روپے پچانوے پیسے (۴۹۹۹۹.۹۵) بیوی کو (۱)، اور چار لڑکوں میں سے ہر ایک لڑ کے کو ۱۴/۱۴/ حصے یعنی ستہتر ہزار سات سو ستہتر روپے سات پیسے(۷۷۷۷۷.۷)،اور ایک لڑ کی کو ۷/ حصے یعنی اڑتیس ہزار آٹھ سو اٹھاسی روپے پچاسی پیسے ( ۳۸۸۸۸.۸۵) از روئے شرع ملیں گے(۲)،باقی جائداد جب بھی تقسیم ہوگی خواہ منقولہ ہو یا غیر منقولہ انہی حصصِ شرعیہ کے مطابق تقسیم ہوگی۔

۲– شریعت کا حکم ہے کہ جن حقوق کی ادائیگی واجب ہے(۳)، جلد ان کو ادا کرکے باقی میراث وارثوں کے درمیان تقسیم کردی جائے، تاخیر ہونے سے بہت زیادہ پیچیدگیاں اور بدگمانیاں پیدا ہوتی ہیں، اور بعض مرتبہ زیادہ تاخیر ہونے سے تقسیمِ میراث میں اُلجھنیں اور مشکلات پیدا ہوجاتی ہیں، اور حق تلفی تک نوبت پہنچ جاتی ہے(۴)؛ اس لیے جتنا جلد ممکن ہو میراث وارثوں کے مابین تقسیم کردی جائے، البتہ اگر ضرورةً تمام ورثا کے اتفاق سے کچھ تاخیر ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔(۵)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿فَإِنْ کَانَ لَکُمْ وَلَدٌ فَلَهنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِیَّةٍ تُوْصُوْنَ بِهآ أَوْ دَیْنٍ﴾ ۔ (سورة النساء : ۱۲)

(۲) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿یُوْصِیْکُمُ اللّٰه فِيْ أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ﴾۔(سورة النساء :۱۱)

ما في ” الفتاوی الهندیة “ : وإذا اختلط البنون عصب البنون البنات، فیکون للابن مثل حظ الأنثیین، کذا في التبیین ۔ (۶/ ۴۴۸ ، کتاب الفرائض)

(۳) ما في ” المحصول في علم الأصول “ : قالت الحنفیة : (مطلق الأمر) إنه یفید الفور، وقال قائلون: یفید التراخي ۔

(۲۱۱/۱ ، أصول الجصاص لأبي بکر أحمد بن علي الجصاص الرازي :ص/۲۹۵)

(۴) ما في ” موسوعة القواعد الفقهیة “ : ما أفضی إلی الحرام کان حرامًا۔ (۴۲/۹)

(۵) ما في ” الفتاوی الهندیة “ : مواضع الضرورة مستثناة عن قواعد الشرع ، کذا في الظهیریة ۔ (۱/ ۱۳) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۳۰/۲/۱۱ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔