مسئلہ:
آج کل بہت سے سماجی اور رفاہی ادارے زکوٰة، چرمہائے قربانی اور دوسرے عطیات جمع کرنے کیلئے ان ہی مدات میں سے بہت سی رقم پبلسٹی اور اشتہارات پر خرچ کرتے ہیں، ان کا یہ عمل شرعاً جائز نہیں ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما فی ” مشکوة المصابیح “ : عن ابن عباس أن رسول الله ﷺ بعث معاذاً إلی الیمن فقال: ” إن الله قد فرض علیهم صدقة ، توٴخذ من أغنیائهم فترد علی فقرائهم “۔
(۱۵۵/۱، کتاب الزکوٰة ، الفصل الأول)
ما فی ” تبیین الحقائق “ : إن الزکوٰة یجب فیها تملیک المال، لأن الإیتاء من قوله تعالی: ﴿وآتوا الزکوٰة﴾ یقتضی التملیک۔ (۱۸/۲، کتاب الزکوٰة)
ما فی ” البحر الرائق “ : وفی اصطلاح الفقهاء ما ذکره المصنف قوله: هی تملیک المال من فقیر مسلم۔۔۔۔۔۔۔ لقوله تعالی: ﴿وآتوا الزکوٰة﴾ والإیتاء هو التملیک، ومراده تملیک جزء من ماله، وهو ربع العشر أو ما یقوم مقامه۔ (۳۵۲/۲، کتاب الزکوٰة، بیروت)
