زکوة کی رقم سے دیئے گئے لحاف وبستر طلباء سے واپس لینا

مسئلہ:

کسی شخص نے منتظم مدرسہ کو زکوٰة کی رقم دی ،تاکہ وہ مدرسہ کے طلباء کو لحاف وبستر وغیرہ بنائے، منتظم صاحب نے اس رقم سے لحاف وبستر بنائے اور مستحق طلباء کے مابین تقسیم کردیئے، تو اب یہ لحاف وبستر سالانہ تعطیلات کے موقع پر طلباء سے اس اندیشہ سے واپس نہیں لئے جاسکتے کہ پتہ نہیں وہ آئندہ سال مدرسہ واپس آئیں یا نہ آئیں، کیوں کہ زکوٰة کی ادائیگی اسی وقت صحیح ہوتی ہے جب کہ زکوٰة کی رقم یا اس سے خریدی ہوئی چیزوں کا مستحقین کو مالک بنادیا جائے، لحاف وبستر کو واپس لینے کی صورت میں یہ محض مستعار ہوں گے، جب کہ مستعار دینے سے زکوٰة ادا نہیں ہوگی۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” الدر المختار “ : ویشترط أن یکون الصرف تملیکاً لا إباحةً۔(۳۹۱/۳، کتاب الزکوٰة، باب المصرف)

ما فی ” مجمع الأنهر “ : ولا تدفع الزکوٰة لبناء مسجد، لأن التملیک شرط فیها ولم یوجد، وکذا بناء القناطیر وإصلاح الطرقات وکری الأنهار والحج والجهاد، وکل ما لا تملیک فیه۔(۳۲۸/۱، کتاب الزکوٰة، بیان أحکام المصرف)

ما فی ” تبیین الحقائق “ : قال رحمه الله تعالی: (وبناء مسجد) أن لا یجوز أن یبنی بالزکوٰة المسجد، لأن التملیک شرط فیها ولم یوجد، وکذا لا یبنی بها القناطیر والسقایات وإصلاح الطرقات وکری الأنهار والحج والجهاد، وکل ما لا تملیک فیه۔(۱۲۰/۱، کتاب الزکوٰة، باب المصرف، البحر الرائق: ۴۲۴/۲، کتاب الزکوٰة، باب المصرف)

(فتاوی محمودیه: ۱۷۴/۱۴)

اوپر تک سکرول کریں۔