مسئلہ:
بعض تنظیمیں مستحقین کیلئے زکوٰة اور فطروں کی رقومات جمع کرتی ہیں، اور سال بھر مستحقینِ زکوٰة کو اس جمع کردہ رقم میں سے دیا کرتی ہیں، ان کا یہ عمل قابل تحسین ہی نہیں بلکہ باعثِ اجر وثواب بھی ہے،(۱) البتہ ان تنظیموں کو اس بات کا پورا خیال رکھنا چاہیے کہ آئندہ سال آنے تک اپنے پاس جمع رقم مستحقین تک پہنچادے، جمع نہ رکھیں، ورنہ ان کا یہ عمل ”نیکی برباد ، گناہ لازم “کا مصداق ہوگا، کیوں کہ علامہ شامیؒ فرماتے ہیں کہ زکوٰة کو آئندہ سال تک اپنے پاس جمع رکھنا اور مصارف میں خرچ نہ کرنا گناہ کی بات ہے۔(۲)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما فی ” القرآن الکریم “ : ﴿وتعاونوا علی البر والتقویٰ﴾ ۔ (سورة المائدة :۲)
ما فی ” عون المعبود شرح السنن لأبي داود “ : قال رسول الله ﷺ: ” من دل علی خیر فله مثل أجر فاعله “۔
(ص:۲۱۸۸، کتاب الأدب، باب فی الدال علی الخیر، رقم الحدیث: ۵۱۲۹)
(۲) ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : وافتراضها عمری أی علی التراخی وصححه الباقانی وغیره، وقیل فوری أی واجب علی الفور، وعلیه الفتوی، فیأثم بتأخیره ۔ الدر المختار۔ قال الشامی: المراد أن لا یوٴخر إلی العام القابل۔ (۱۹۱/۳۔۱۹۲، کتاب الزکوٰة)
ما فی ” فتح القدیر “ : (هی واجبة علی الفور لأنه مقتضی الأمر) قال ابن الهمام: وهو قول الکرخی فإنه قال: یأثم بتأخیر الزکوٰة بعد التمکن، وروی عن محمد: من أخر الزکوٰة من غیر عذر لا تقبل شهادته، وفرق بینها وبین الحج، فقال: لا یأثم بتأخیر الحج ویأثم بتأخیر الزکوٰة لأن فی الزکوٰة حق الفقراء فیأثم بتأخیر حقهم۔ (۱۶۵/۲، کتاب الزکوٰة)
ما فی ” الفقه الحنفی فی ثوبه الجدید “ : وأداء الزکوٰة واجب علی الفور، فلا یوٴخر عن أول وقت الإمکان فإذا لم یوٴدها حتی مضی حولان فقد أساء وأثم لأن الأمر بالصرف إلی الفقیر لدفع حاجته وهی معجلة، فإذا لم تجب علی الفور لم یحصل المقصود۔(۳۵۹/۱، کتاب الزکوٰة، أداء الزکوٰة)
(فتاوی محمودیه: ۱۶۳/۱۴)
