(فتویٰ نمبر: ۱۸۱)
سوال:
میرا نام صفیہ ہے،شادی ہوئی لیکن طلاق ہوگئی ہے، کوئی اولاد بھی نہیں ہے، فی الحال میں اپنے والد کے ساتھ رہتی ہوں، والد صاحب نے کھیت بیچ کر سات لاکھ روپے ورثہ دیا تھا، اس میں سے ایک لاکھ روپے سے حج کیا،اب میرے پاس صرف چھ لاکھ روپے،پانچ تولہ سونا اورتیس ہزار روپے کا شیئرز ہے، رہنے کے لیے میرا اپنا ذاتی گھر بھی نہیں ہے،ابھی والد صاحب کے ساتھ رہتی ہوں، تو مجھ پر زکوٰة فرض ہے یا نہیں؟ اگر فرض ہے توکتنی ادا کرنی ہوگی؟
الجواب وباللہ التوفیق:
آپ پر زکوة کا ادا کرنا اس وقت فرض ہوگا جب کہ ساڑھے باون تولہ چاندی، یا ساڑھے سات تولہ سونا ،یا اس کی قیمت ،یا سونا یا چاندی کی مذکورہ مقدارِ شرعی ،یا اس سے زائد مال آپ کی ملکیت میں رہتے ہوئے ایک سال ہوگیا ہو(۱)،اور آپ کی حوائجِ اصلیہ سے زائد ہو،نیز شیئرز(Shares) پر بھی زکو ة واجب ہے، اور جس دن زکوة ادا کی جائے اسی دن کی قیمت معتبر ہوگی(۲)، زکوة کی مقدار کل مال کا ڈھائی فی صد ہے ۔(۳)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” التنویر مع الدر والرد “ : وشرطه أي شرط افتراض أدائها حولان الحول ، وثمنیة المال کالدراهم والدنانیر لتعینها للتجارة بأصل الخلقة ، فتلزم الزکاة کیفما أمسکهما ولو للنفقة ۔ (۱۷۳/۳، کتاب الزکاة)
ما في ” المبسوط للسرخسي “ : وما کان من الدراهم والدنانیر والذهب والفضة تبرًا مکسورًا أو حلیًا مصوغًا وحلیة سیف أو منطقة أو غیر ذلک ، ففي جمیعه الزکاة إذا بلغ الذهب عشرین مثقالا ، أو من الفضة مائتي درهم نوی به التجارة أو لم ینو ۔۔۔۔۔ وإن کان له عشرة مثاقیل ذهب ومائة درهم ضم أحدهما إلی الآخر في تکمیل النصاب عندنا ۔ (۲۵۷/۲، کتاب الزکاة)
ما في ” بدائع الصنائع “ : سواء کان مال التجارة عروضًا أو عقارًا أوشیئًا مما یکال أو یوزن ؛ لأن الوجوب في أموال التجارة تعلق بالمعنی وهو المالیة والقیمة ، وهذه الأموال کلها في هذا المعنی جنس واحد ۔ (۱۰۹/۲ ، ۱۱۰ ، صفة أموال التجارة)
(۲) ما في ” التنویر مع الدر والرد “ : تعتبر یوم الوجوب ، وقالا : یوم الأداء کما في السوائم ، ویقوم في البلد الذي المال فیه ۔ (۲۱۰/۳ ، کتاب الزکاة ، باب زکاة المال)
(۳) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : ففي کل أربعین درهمًا درهم ، وفي کل أربعة مثاقیل قیراطان ۔ (در مختار) ۔ (۲۱۱/۳ ، کتاب الزکاة ، باب زکاة المال) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۳۰/۲/۷ھ
